اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز)انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن (PSF) کے صدر سیاب کامریڈ، سینئر نائب صدر شہاب خان اور دیگر عہدیداران نے آئندہ وفاقی بجٹ، طلبہ کو درپیش مسائل، مہنگائی، تعلیمی اداروں میں فیسوں میں اضافے اور طلبہ تنظیموں پر پابندی کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت سے فوری عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے جبکہ اس کے سب سے زیادہ منفی اثرات طلبہ اور متوسط و غریب طبقے کے خاندانوں پر پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں آئے روز فیسوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے جس کے باعث ہزاروں طلبہ اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے رہنماؤں نے کہا کہ جس طرح حکومت ہر بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرتی ہے، اسی طرح عام شہریوں کے بچوں کیلئے بھی خصوصی تعلیمی ریلیف پیکج متعارف کروایا جائے تاکہ والدین اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر طلبہ اپنے والدین کے زیر کفالت ہیں اور موجودہ معاشی حالات میں والدین کیلئے تعلیمی اخراجات برداشت کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔سیاب کامریڈ نے کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں جبکہ دوسری جانب تعلیمی اخراجات میں مسلسل اضافہ غریب اور متوسط طبقے کیلئے تعلیم کو ایک خواب بنا رہا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ برسوں میں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلوں کی شرح میں خطرناک حد تک کمی واقع ہو سکتی ہے اور صرف امیر گھرانوں کے بچے ہی اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں گے، جو کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔مقررین نے طلبہ تنظیموں پر عائد پابندی کو بھی غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ یونینز نوجوانوں کی قیادت سازی، سیاسی شعور اور تعلیمی مسائل کے حل کیلئے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ تنظیموں پر پابندی ختم کی جائے تاکہ طلبہ اپنی آواز مؤثر انداز میں بلند کر سکیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں تعلیم کیلئے خصوصی فنڈز مختص کیے جائیں، سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں فیسوں میں اضافے کو روکا جائے، غریب طلبہ کیلئے اسکالرشپس اور سبسڈی دی جائے اور نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں۔پریس کانفرنس کے اختتام پر طلبہ رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر طلبہ کے مسائل حل نہ کیے گئے تو ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلانے پر غور کیا جائے گا۔











