برطانیہ میں رن مریدی کی داستان!
میں اور میرا دوست

کیا بیوی کی گھر کے کاموں میں مدد کرنا رن مریدی ہیں؟

وادیِ کشمیر کے لوگ ویسے ہی بڑے دلچسپ ہوتے ہیں، میرے ایک دوست کا تعلق اسی وادی سے ہیں اور وہ چند سال قبل برطانیہ منتقل ہوا ،

لٹھے کا سوٹ پہنتا ہو، 6 فٹ بلند و بالا قد کا شیں جوان اور مونچھیں ایسی رکھتا ہو کہ بندہ سلام کرنے سے پہلے اجازت لے، اور پھر اُس کی گفتگو میں دیسی رعب، برطانوی تجربہ اور خالص کشمیری فلسفہ سب اکٹھے شامل ہو جاتے ہیں۔

گذشتہ دنوں ہم دونوں برطانیہ میں ایک وی وی آئی پی فیملی فنکشن میں کیٹرنگ کا انتظام سنبھال رہے تھے۔

اب برطانیہ میں پاکستانیوں کے فنکشن بھی عجیب تر ہوتے ہیں۔

باہر سردی ایسی کہ بندہ جیب سے ہاتھ نکالنے سے ڈرے، مگر ہال کے اندر گرمی، روشنی، شور اور خوشبوؤں کا ایسا عالم کہ لگتا تھا لاہور، میرپور، گجرات اور برمنگھم سب نے مل کر ایک عارضی ریاست قائم کر لی ہو۔

ہر طرف برانڈڈ سوٹ، مہنگے عطر، تصویروں کے لیے مصنوعی مسکراہٹیں اور پلیٹوں میں اتنا کھانا کہ لگتا تھا مہمان کم اور اقوامِ متحدہ کی کانفرنس زیادہ ہے۔

میرا دوست بڑی دیر سے خاموشی سے لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔ اُس کی خاموشی ویسے بھی خطرناک ہوتی ہے۔ اچانک میرے قریب آکر بولا:

“یار، تُسی اک گل نوٹ کیتی اے؟”

میں نے کہا: “کیہڑی؟”

کہنے لگا:

“ایتھے زیادہ تر مرد اپنی بیویاں توں ڈردے نیں۔”

میں نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا۔ میں نے سوچا شاید برطانیہ کی شہریت کے ساتھ اِسے کوئی روحانی طاقت بھی مل گئی ہے۔

میں نے ہنس کر پوچھا:

“یار جی، تسی کنج پہچان لیا؟ آخر کون سی گیدڑ سنگھی اے؟”

وہ مونچھوں کو ہلکا سا تاؤ دے کر بولا:

“بڑی سادہ گل اے۔ دیکھو کھانے دا ٹائم اے۔ آٹھ دس جنے اپنے بچے چک کے ہال وچ پھر رہے نیں، تے اُن دیاں بیویاں سکون نال کھانا کھا رہیاں نیں۔”

میں بے اختیار ہنس پڑا۔ میں نے کہا:

“او بھائی، کیا آرام سے کھانا کھانا صرف مرد کا حق ہے؟

کیا بچوں کو سنبھالنا مردانگی کے خلاف ہے؟”

وہ جھٹ سے بولا ہاں یہ مردانگی کے خلاف کہ عورتیں فیشن کریں کھانا کھائیں اور مرد بچوں کو سنبھالے۔

اُس کی یہ بات سن کر میں نے دوبارہ اردگرد دیکھا۔ واقعی، کچھ مرد بچوں کو کندھوں پر اٹھائے پھر رہے تھے، کچھ فیڈر بنا رہے تھے، کچھ نیپی بیگ پکڑے ہوئے تھے، اور چند ایسے بھی تھے جو بچوں کو چپ کرواتے کرواتے خود رونے کے قریب پہنچ چکے تھے۔

میں نے عرض کیا۔ دیکھو یار

برطانیہ آکر ایک چیز ضرور بدلتی ہے؛ یہاں زندگی صرف “مرد کی ذمہ داری” یا “عورت کی ذمہ داری” نہیں رہتی۔ یہاں دونوں کو مل کر زندگی چلانی پڑتی ہے۔

صبح دفتر، شام بچوں کا اسکول، گھر کے بل، خریداری، کھانا، صفائی سب کچھ مل بانٹ کر کرنا پڑتا ہے۔

لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ کچھ لوگ برطانیہ میں رہتے ہوئے بھی ذہنی طور پر اب تک 1985ء کے گاؤں میں رہ رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر مرد نے بچے اٹھا لیے یا بیوی کی مدد کر دی تو اُس کی مردانگی کم ہو جائے گی۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

اصل مردانگی ایہ نہیں کہ بندہ صرف کرسی تے بیٹھ کے حکم چلاتا رہے۔ اصل مردانگی ایہ اے کہ آدمی اپنی شریکِ حیات دا سہارا بنے۔ اسلام وی ایہی سکھاندا اے۔”

حضرت محمد ﷺ نے تو اپنی ازواج کے کاموں میں ہاتھ بٹایا، گھر کے کام کیے، کپڑوں میں پیوند لگائے۔ نبی ﷺ کی سنت پر عمل کرنا مردانگی کے خلاف نہیں بلکہ اعلی اخلاق کے مالک ہونے کی نشانی اور مردانگی کا حسن ہیں۔

تو ننھے بچے کو گود میں اٹھانا کون سا جرم ہے؟

کیا قباحت اور کیا شرمندگی اس میں۔

اور اس ایک چیز سے کیسے تاثر لیا جاتا کہ وہ رن مرید ہے؟

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے “مردانگی” کو عجیب چیز بنا دیا ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں مرد وہ ہے جو اونچی آواز میں بولے، غصہ کرے، حکم چلائے اور گھر میں ایسے پھرے جیسے وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا آخری وائسرائے ہو۔

حالانکہ اصل مرد وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے آسانی پیدا کرے۔

مرد کی مردانگی اسکی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کو پروٹیکشن دے۔

عورت کھل کر آپ سے بات شیئر کرسکے دراصل یہ مردانگی کا حسن ہے۔

خاص کر بیوی سے آپکا تعلق بالکل دوستانہ ہونا چاہیے۔

نہ کہ اسطرح کہ وہ بھارت اور آپ پاکستان ہو اور کشیدگی سر پر منڈلاتی رہے۔

 

دوسری طرف کچھ خواتین بھی آزادی کا مطلب غلط سمجھ بیٹھتی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ شوہر دفتر بھی جائے، گھر بھی سنبھالے، برتن بھی دھوئے، بچوں کو بھی سلائے، اور اگر ممکن ہو تو رات کو دودھ گرم کر کے خود ہی پی بھی لے۔

اسلام نہ مرد کو غلام بناتا ہے نہ عورت کو۔ اسلام توازن سکھاتا ہے۔

 

شوہر اور بیوی مقابل نہیں، ساتھی ہیں۔ ایک تھک جائے تو دوسرا سہارا بنے۔ ایک پریشان ہو تو دوسرا حوصلہ دے۔

 

میرے دوست نے ساری باتیں سنی اور فلسفیانہ بم پھینکا۔ بولا:

 

“اصل ڈرپوک مرد اوہ نہیں جو بچے سنبھال لے۔ اصل گل اے کہ پاکستان توں آون لگے آں لوگ پہلاں ہی کہہ دیندے نیں یوکے جا کہ پانڈے توئےگا۔۔

 

میں نے کہا چوہدری صاحب گھر کے کاموں میں ہاتھ بنٹانا سنت سے ثابت۔۔ گھر والی سے حسن سلوک سنت سے ثابت۔۔ آپ کن چکروں میں لگے ہو۔

چوہدری صاحب نے مونچھوں کا تاو دیا۔

اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا۔

سنت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی دلیل نہیں ہوسکتی۔

بیوی سے مقابلہ نہیں بلکہ ایک دوسرے کا سہارا اور دوست ہونا چاہیے۔

میں نے کہا

ایں ہوئی نہ مردانگی۔

مزید خبریں