اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) وفاقی دارالحکومت میں 26 نمبر چونگی کے مقام پر اُس وقت شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں اور کارکنوں کو اڈیالہ جیل جانے سے روکنے کیلئے راستے بند کر دیے گئے۔ اسلام آباد پولیس نے دونوں اطراف کنٹینرز لگا کر سڑک سیل کردی، جس کے باعث اسلام آباد سے ایئرپورٹ جانے والی شاہراہ پر شدید ٹریفک جام ہوگیا اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
شدید گرمی میں شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ایک ایمبولینس بھی ٹریفک میں پھنس گئی۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدگی کے دوران حالات مزید خراب ہوگئے، پولیس ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی جبکہ پولیس کی جانب سے ربڑ بلٹس کے استعمال کی اطلاعات سامنے آئیں۔ متعدد کارکنان زخمی ہوئے جن میں کئی لہولہان بھی ہوگئے۔
دوسری جانب علیمہ خان کی جانب سے مبینہ حکومتی پیشکش مسترد کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر ایک پیغام لے کر آئے تھے، تاہم عمران خان کی بہنیں اس پر مطمئن نہ ہوئیں۔
26 نمبر چونگی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا، “ہم آج بھی پرامن طریقے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے آئے ہیں، کارکنوں نے ہر موقع پر تحمل کا مظاہرہ کیا۔ ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو اور پوری کابینہ کو راستے میں روکنا امتیازی سلوک ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی، وکلا اور ذاتی ڈاکٹروں سے ملاقات بنیادی انسانی حقوق کا تقاضا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی آنکھ کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور انہیں اپنی مرضی کے اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔
سہیل آفریدی نے کہا، “اگر گرفتاریاں کرنی ہیں تو ہمیں کریں، کارکنوں کو نہیں۔ ہمارا کوئی غیر قانونی یا غیر آئینی مطالبہ نہیں، ہم صرف بنیادی انسانی حقوق کی بات کر رہے ہیں۔”
تاحال حکومت اور پولیس حکام کی جانب سے واقعے پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔











