لنڈسے گراہم کے پاکستان مخالف بیان پر طوفان، ایران کشیدگی میں نئی صف بندیاں نمایاں

واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم  کے پاکستان مخالف بیان پر پاکستانی عوام اور سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ خطے میں ایران اسرائیل کشیدگی کے دوران نئی سفارتی صف بندیاں بھی زیر بحث آ گئی ہیں۔

امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے پاکستان پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان پر “اتنا بھی بھروسہ نہیں کرتے جتنا کسی چیز کو پھینکنے تک کیا جا سکتا ہے”، جبکہ انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پاکستانی ثالثی کے کردار پر بھی اعتراض اٹھایا۔ امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران نے بعض فوجی طیاروں کے لیے پاکستانی حدود یا اڈوں سے متعلق سہولت حاصل کی، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب ایرانی فضائیہ کی سرگرمیوں اور خطے میں بڑھتی عسکری نقل و حرکت نے عالمی طاقتوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایران اپنی فضائی تنصیبات اور جنگی طیاروں کو ممکنہ اسرائیلی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر عمل کر رہا ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل پاکستان کے کردار کو سراہتے دکھائی دے رہے ہیں، جس کے باعث امریکی سیاست میں بھی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ خطے میں پاکستان کو ایک اہم سفارتی کھلاڑی سمجھتی ہے، جبکہ کانگریس کے بعض حلقے اس پالیسی پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔

یقین ہے ایران یورینیم افزودگی 100 فیصد روک دیگا، ایران سے معاہدے میں جلد بازی نہیں کرینگے: ٹرمپ

پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے لنڈسے گراہم کے بیان کو “اسرائیلی بیانیے کی عکاسی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف محاذ بندی میں پاکستان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کئی صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ مسلم اُمہ مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ وہ “بھائی چارے” والا کردار ادا نہیں کر رہی جس کی توقع کی جاتی ہے۔

معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی اور آبنائے ہرمز متاثر ہوئی تو پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 50 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا خدشہ ہے۔

دریں اثنا کراچی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر سید وقار مہدری نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف بیرونی بیانیہ بنانے والے عناصر خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی اور سفارتی محاذ پر واضح اور مضبوط حکمت عملی کی ضرورت ہے، محض سیاسی بیانات سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

مزید خبریں