اسلام آباد(عرفان حیدر) امامِ ہشتم، شہنشاہِ خراسان حضرت امام علی رضا علیہ السلام کا 1227 واں یومِ شہادت آج دنیا بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر مرکزی تقریب مرکزی امام حسین کونسل کے سیکریٹریٹ اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جہاں ملک بھر سے علماء، اسکالرز اور مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندوں نے شرکت کی۔
تقریب کی صدارت ممتاز اسکالر اور چیئرمین مرکزی امام حسین کونسل ڈاکٹر غضنفر مہدی نے کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی علمی و دینی خدمات اور تبلیغی جدوجہد کے نتیجے میں وسطی ایشیا کے وسیع خطے میں اسلام کی روشنی پھیلی۔ انہوں نے کہا کہ امام رضا علیہ السلام نے انسانیت کی فلاح و بہبود کے ایسے اصول پیش کیے جن پر عمل کر کے دنیا میں امن، برداشت اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج کی دنیا میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کا حل بھی انہی تعلیمات میں موجود ہے، اگر ان اصولوں کو عملی طور پر اپنایا جائے تو معاشرتی اصلاح ممکن ہے۔
اس موقع پر جسٹس (ر) جاوید خالد بخاری نے کہا کہ حضرت امام رضا علیہ السلام کی تعلیمات کو تمام بڑے اولیائے کرام نے اسلام کی تبلیغ کے لیے مشعلِ راہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی فکر آج بھی رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہے۔
نیئر سرحدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام رضا علیہ السلام نے اپنے جدِ امجد حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے پیغام کو سادہ، واضح اور عام فہم انداز میں دنیا تک پہنچایا، جس کے اثرات آج بھی تاریخ میں محفوظ ہیں۔
سِبطین رضا لودھی نے کہا کہ موجودہ دور میں معاشرتی اصلاح اور اخلاقی بہتری کے لیے امام رضا علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل کرنا ناگزیر ہے۔
بزمِ عروجِ ادب کے صدر نعیم اکرم قریشی، محمد رفیق مغل، میمونہ مشتاق، اخلاق حسین زیدی اور دیگر مقررین نے بھی حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی علمی، فکری اور روحانی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
اختتام پر ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں علماء و مشائخ سے اپیل کی گئی کہ معاشرے میں امن، رواداری اور سکون کے فروغ کے لیے مشترکہ اور مؤثر پروگرام تشکیل دیے جائیں۔
کانفرنس کے اختتام پر شیر عباس رضوی اور شاہ حسین مہدی کی جانب سے شرکاء میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پر ملک بھر سے مختلف مکاتبِ فکر کے علماء، مشائخ اور اسکالرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔











