لاہور(روشن پاکستان نیوز) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کے ایک بڑے سکینڈل کا پردہ فاش کرتے ہوئے انوویٹیو بسکٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق کمپنی کی جانب سے 6.629 ارب روپے سے زائد کی مشکوک مالی لین دین سامنے آئی ہے۔ مقدمے میں کمپنی کے سی ای او شیخ منیر حسین، ڈائریکٹر عامر رضا سمیت 7 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ کمپنی کی سیلز سے حاصل ہونے والی رقم خفیہ طور پر بے نامی بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جاتی رہی۔ منی لانڈرنگ کے لیے تین افراد کے نام پر متعدد بے نامی اکاؤنٹس کھولے گئے، جنہیں بائیو میٹرک تصدیق کے ذریعے رجسٹر کیا گیا مگر ان اکاؤنٹس کو پراکسی دستخطوں کے ذریعے چلایا جاتا رہا۔
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ گوجرانوالہ نے چیف آفسیر ضلع کونسل کو گرفتار کر لیا
ایف آئی اے حکام کے مطابق سیلز کی رقم پہلے مختلف بینک اکاؤنٹس میں جمع کروائی جاتی اور بعد ازاں اسے دیگر بینکوں میں منتقل کر کے کیش کی صورت میں نکال لیا جاتا تھا۔ فرنٹ مین کے ذریعے بھاری رقوم نکلوانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
تحقیقات میں بینک آف پنجاب کے ایک ریلیشن شپ منیجر کو مرکزی کردار قرار دیا گیا ہے جبکہ بعض بینک اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت اور سہولت کاری بھی سامنے آئی ہے۔ جعلی بینکنگ دستاویزات اور پراکسی سسٹم کے ذریعے فراڈ کیے جانے کے شواہد بھی ملے ہیں۔
ایف آئی اے کے مطابق اس غیر قانونی سرگرمی کے باعث قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا جبکہ بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری بھی کی گئی۔ مزید ملزمان، بینک افسران اور سہولت کاروں کے کردار کی تحقیقات جاری ہیں۔











