راولپنڈی/اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) کی جانب سے جاری کی گئی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک بھر کے میڈیا ہاؤسز میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں اور مراعات میں کٹوتیوں کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عید کے موقع پر انہی اداروں نے اشتہارات کی مد میں تقریباً ڈیڑھ ارب روپے کی آمدن حاصل کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مختلف ٹی وی چینلز اور میڈیا اداروں میں بڑے پیمانے پر ڈاؤن سائزنگ کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں رپورٹرز، کیمرہ مین اور ٹیکنیکل اسٹاف سمیت متعدد ملازمین کو بغیر پیشگی اطلاع کے فارغ کر دیا گیا ہے۔ کئی اداروں نے اپنے بیورو دفاتر بند کر دیے ہیں جبکہ سینئر صحافیوں کی آسامیاں بھی ختم کی جا رہی ہیں، جس سے پیشہ ورانہ ماحول شدید متاثر ہو رہا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ تنخواہوں کی ادائیگی میں بھی سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کئی میڈیا ہاؤسز میں دو سے تین ماہ کی تنخواہیں واجب الادا ہیں جبکہ بعض ادارے غیر مستقل بنیادوں پر ادائیگیاں کر رہے ہیں۔ پرنٹ میڈیا سے وابستہ ملازمین کو بھی طویل عرصے سے بقایا جات کی ادائیگی نہیں کی گئی۔
میڈیا شدید بحران کا شکار، نظام سے فائدہ چند ہزار افراد کو ہو رہا ہے، افضل بٹ
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فیلڈ اسٹاف کے الاؤنسز میں نمایاں کمی کی گئی ہے یا انہیں مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جس سے صحافیوں کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی متاثر ہو رہی ہے۔ خواتین ملازمین کے لیے پک اینڈ ڈراپ جیسی بنیادی سہولیات کی بندش نے ان کی سکیورٹی اور کام کے ماحول کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر افضل بٹ نے ان حالات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا ہاؤسز کا یہ طرز عمل مزدوروں کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے، خصوصاً پیمرا، اس صورتحال پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور قانون پر عملدرآمد یقینی بنانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ بحران نے صحافی برادری میں شدید بے چینی اور معاشی عدم تحفظ کو جنم دیا ہے، جس کے اثرات نہ صرف میڈیا کے معیار بلکہ اظہارِ رائے کی آزادی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ یونین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری مداخلت کرے، واجبات کی ادائیگی یقینی بنائے اور جبری برطرفیوں کا سلسلہ روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔











