واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) ایران کی جانب سے خلیجی خطے میں حالیہ حملوں نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق عرب ممالک کے ساتھ ساتھ امریکہ بھی ایران کے اس قدر شدید ردعمل کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں تھا۔
برطانوی نشریاتی ادارے سی این این نے کویت میں قائم امریکی فوجی اڈے پر ایرانی حملے کے بعد چھ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصاویر نشر کی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اتوار کی صبح تقریباً 9 بجے ایرانی حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں کویتی پورٹ پر تعینات چھ امریکی اہلکار مارے گئے۔
ایک باخبر ذریعے کے مطابق حملے سے قبل نہ کوئی سائرن بجایا گیا اور نہ ہی کسی قسم کی وارننگ جاری کی گئی، جس سے فوجیوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے یا بنکرز میں پناہ لینے کا موقع نہ مل سکا۔ حملے کے بعد کئی گھنٹوں تک عمارت میں آگ لگی رہی اور اہلکاروں کو ملبے سے نکالنے میں خاصا وقت لگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران کے خطے کے ممالک پر حملے ان کے لیے سب سے بڑا سرپرائز تھے۔ ان کے بقول، امریکہ نے عرب ممالک کو یقین دہانی کرائی تھی کہ صورتحال کو کنٹرول میں رکھا جائے گا اور انہیں زیادہ ملوث ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی، تاہم اب بعض عرب ممالک خود اس تنازع میں شامل ہونے پر زور دے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران کا فضائی دفاع، فضائیہ، بحریہ اور قیادت شدید نقصان کا شکار ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران بات چیت کا خواہاں ہے، لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے۔
امریکا کے پاس کن ہتھیاروں کا لامحدود ذخیرہ ہے؟ ٹرمپ نے بتادیا
دوسری جانب گزشتہ دو روز کے دوران قطر اور سعودی عرب میں تیل اور گیس کی تنصیبات پر بھی ایرانی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے توانائی کے شعبے میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ باسر آقچی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران صرف خطے میں موجود امریکی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے اور کسی دوسرے ملک کو ٹارگٹ نہیں کیا جا رہا۔
اسی دوران صدر ٹرمپ کے قریب سمجھے جانے والے امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے اپنی پوڈکاسٹ میں دعویٰ کیا کہ قطر اور سعودی عرب نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے مبینہ ایجنٹس کو گرفتار کیا ہے، جو ان ممالک میں بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ تاہم قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کسی موساد سیل سے متعلق کوئی معلومات موجود نہیں ہیں۔
موجودہ صورتحال نے خطے میں عدم استحکام کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے اور عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔











