میں نے ہاتھ کیوں جوڑے؟حافظ حمدللہ نے خود ہی وجہ بھی بتادی

میں نے ہاتھ کیوں جوڑے؟حافظ حمدللہ نے خود ہی وجہ بھی بتادی
اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)جمعرات کی شب پاکستان کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت اس وقت ہوئی جب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے سخت حریف مولانا فضل الرحمان نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ 2022 میں پی ٹی آئی حکومت گرانے کے لیے تحریک عدم اعتماد اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے کہنے پر لائی گئی۔

اس انٹرویو کے نشر ہونے کے کچھ ہی دیر بعد تحریک انصاف کا ایک وفد سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی قیادت میں مولانا فضل الرحمان سے ملنے گیا اور تقریبا ایک گھنٹے تک مولانا اور ان کی جماعت کے ساتھیوں کے ساتھ موجودہ سیاسی صورتحال پرمشاورت کرتا رہا۔

پاکستان تحریک انصاف کے ایک وفد نے اپنے روایتی مؤقف کے بالکل برخلاف لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ان کی رہائش گاہ جا کر ملاقات کی۔

تفصیلات کے مطابق دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے اس ملاقات کو غیر سیاسی واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر کی قیادت میں پی ٹی آئی کا وفد صرف مولانا مولانا فضل الرحمٰن سے ان کی ساس کی وفات پر تعزیت کے اظہار کے لیے آیا تھا جب کہ سیاسی تجزیہ کار اور ماہرین دونوں جماعتوں کے درمیان ماضی میں شدید سیاسی تلخی کے پس منظر میں اس ملاقات کو ایک ”اہم پیش رفت“ قرار دے رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان دونوں ہی ’’شدید سیاسی حریف‘ ‘کے طور پر جانے جاتے ہیں، ان دونوں جماعتوں کے ارکان ہی نہیں بلکہ ان کے سربراہوں کو بھی ایک دوسرے پر ذاتی حملے کرتے دیکھا گیا ہے۔

دونوں پارٹیز کی ملاقات کے بعد میڈیاسے گفتگومیں صحافیوں کے چبھتے ہوئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے حافظ حمداللہ نے ہاتھ جوڑ دیئے اور کہاکہ عمران خان اور فضل الرحمان میں صلح ہوگئی ہے ،یہ سب سن کر سب شرکاہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگئے۔

اس ملاقات کو مبصرین ایک نئی جہت قرار دے رہے ہیں۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے درمیان برف پگھلنے کا سبب بن سکتی ہے۔

تاہم سینیئر تجزیہ نگار اور صحافی مظہر عباس کہتے ہیں کہ آج کی ملاقات سے پی ٹی آئی کو نقصان ہوا ہے۔

پی ٹی آئی کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ اس ملاقات کی ضرورت کیا تھی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر جے یو آئی سے ملنا ہے تو پی پی پی سے ملنے میں کیا قباحت ہے۔

ایک سوال پر کہ کیا پی ٹی آئی اور جے یو آئی کی آج کی ملاقات مستقبل میں کسی مشترکہ لائحہ عمل پرمنتج ہو سکتی ہے مظہر عباس کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ یہ قربت دیرپا ثابت ہوگی۔ ’جے یو آئی اور اور پی ٹی آئی مل بھی جائیں تو اسمبلی میں کوئی تبدیلی یعنی حکومت نہیں بناسکتے۔

دوسری بات یہ ہے کہ جے یو آئی کا موقف اور احتجاج ہی اس بات پر ہے کہ ان کی سیٹیں خیبر پخونخوا میں ان سےچھین کر پی ٹی آئی کو دی گئی ہے۔

یہ ملاقات اور دونوں جماعتوں کا مشترکہ موقف اس لیے بھی اہم ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام اور تحریک انصاف دونوں نے انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔

لہٰذا اگر دونوں جماعتیں اگلے مرحلے میں مشترکہ احتجاج اور پارلیمنٹ میں اتحاد بنانے پر رضامند ہو جاتی ہیں تو یہ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ مقتدرہ کے لیے بھی سخت مشکلات کا باعث بن جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کل کی یہ دونوں متحارب جماعتیں اگر آج اکٹھی ہو گئیں تو نئی حکومت کے لیے کام کرنا آسان نہیں ہو گا۔

مزید خبریں