جمعرات,  15 اکتوبر 2026ء
ایران پر حملوں کے لیے امریکا کا نیا منصوبہ، ’مدر آف آل بمز‘ کے استعمال پر غور

واشنگٹن (روشن پاکستان نیوز)  ایران پر حملوں کے لیے امریکا سب سے بڑے غیر جوہری بم ’مدر آف آل بامبز‘ کے ممکنہ استعمال پر غور کررہا ہے۔

امریکی میڈیا سی این این کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیوں کی صورت میں حملوں کے نئے منصوبے تیار کرلیے ہیں، جن میں ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے امریکا کے سب سے بڑے غیر جوہری بم ’مدر آف آل بامبز‘ کے ممکنہ استعمال کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوج کو ایران کے خلاف اضافی حملوں کے آپشنز تیار کرنے کی ہدایت کی ہے تاہم ان منصوبوں پر عمل درآمد صدر کے حکم سے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا بعد میں ہوسکتا ہے۔

سی این این کا کہنا تھا کہ مجوزہ منصوبوں میں ایران کی جوہری تنصیبات، خصوصاً پیکیکس ماؤنٹین میں واقع مبینہ زیرِ زمین تنصیب کو نشانہ بنانے کا امکان بھی شامل ہے۔

امریکا اور اسرائیل کا خیال ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق بعض اجزا اس مقام پر محفوظ کیے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جی بی یو-43/بی ایم او اے بی نامی بم وسیع رقبے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم گہرائی میں موجود اور مضبوط حفاظتی حصار والی زیرِ زمین تنصیبات کو تباہ کرنے میں اس کی افادیت غیر یقینی ہے۔

 اسلام آباد میں ینگ ڈاکٹرز لیڈرشپ سمٹ کا انعقاد

امریکی فوجی منصوبہ بندی سے واقف ذرائع کے مطابق اس بم کے ممکنہ استعمال پر غور کے باوجود اس بات پر سوالات موجود ہیں کہ آیا یہ امریکا کے مطلوبہ فوجی اہداف حاصل کرسکے گا یا نہیں۔

رپورٹ کے مطابق آبادی کے قریب توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی صورت میں شہری ہلاکتوں اور بڑے پیمانے پر تباہی کے خدشات بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ اور یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ اس بم کو فوجی کارروائی کے ساتھ نفسیاتی دباؤ ڈالنے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

مزید خبریں