جمعرات,  15 اکتوبر 2026ء
سعودی عرب کے بجائے حوثیوں کو کہاں حملے کرنے چاہیے تھے؟ چیچن کمانڈر کا اہم بیان

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) قادروف کا کہنا ہے کہ حوثیوں کو ریاض ایئرپورٹ کے بجائے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانا چاہیے تھا۔

چیچنیا کے سربراہ رمضان قادروف نے کہا ہے کہ یمن کے حوثیوں کو سعودی عرب میں شہری تنصیبات کے بجائے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا چاہیے تھا۔

اسلام آباد میں ینگ ڈاکٹرز لیڈرشپ سمٹ کا انعقاد

انہوں نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملوں پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ بیان دیا۔

منگل اور اتوار کو ہوائی اڈے پر حوثی حملوں میں چودہ شہری جاں بحق اور 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ شہید اور زخمی ہونے والوں میں مکہ جانے والے زائرین بھی شامل تھے۔

قادروف نے لکھا کہ شہری تنصیبات پر جان بوجھ کر کیے جانے والے میزائل حملوں کا کسی بھی دلیل سے جواز پیش نہیں کیا جا سکتا، سیاسی یا مذہبی، کسی بھی اعتبار سے ان حملوں کا کوئی منطقی جواز نہیں بنتا۔

انہوں نے رائے دی کہ یہ حملے ممکنہ طور پر یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد کے فوجی آپریشن کے ردعمل میں کیے گئے تھے۔ چیچن رہنما کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں حوثیوں کو مختلف اہداف کا انتخاب کرنا چاہیے تھا۔

قادروف نے کہا کہ اپنے حملوں کا رخ متعلقہ تنصیبات کی جانب موڑنا زیادہ منطقی ہوتا۔ مثال کے طور پر، پورے خطے میں موجود امریکی اڈوں کو ہی لے لیں۔

روس کی وزارتِ خارجہ نے بھی ریاض بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل حملے کی مذمت کی۔ پیر کے روز وزارت نے ایک بیان جاری کیا جس میں جزیرہ نما عرب میں تنازعے کے فریقین سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے گریز کریں۔ بیان میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا گیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔

مزید خبریں