واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک عارضی 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جو 16 اور 17 اپریل کی درمیانی شب سے نافذ العمل ہو چکی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی اور سرحدی جھڑپوں میں اضافہ دیکھا جا رہا تھا۔
ابتدائی اعلان میں حزب اللہ کا ذکر شامل نہیں تھا، تاہم بعد میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ گروپ کو بھی اس جنگ بندی کی پاسداری کرنی ہوگی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ حزب اللہ اس حساس مرحلے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا۔
جنگ بندی کی شرائط
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق جنگ بندی کے تحت دونوں فریقین نے درج ذیل نکات پر اتفاق کیا ہے:
- اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل رہے گا، خاص طور پر اگر کسی ممکنہ یا فوری حملے کا خطرہ ہو
- لبنان اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اس کی سرزمین سے حزب اللہ یا دیگر غیر ریاستی مسلح گروہ اسرائیل پر حملہ نہ کریں
- لبنان کی سکیورٹی کی بنیادی ذمہ داری ملکی سکیورٹی فورسز کو دی گئی ہے
- دونوں ممالک نے امریکہ سے درخواست کی ہے کہ وہ مزید مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھے
- جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے کی جانب ایک ابتدائی قدم قرار دیا گیا ہے
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ اسرائیل کی جانب سے “خیر سگالی کا مثبت اشارہ” ہے اور اس کا مقصد دیرپا امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔
فریقین کا ردعمل
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں ایک “تاریخی موقع” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام مستقبل میں بڑے امن معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل اپنی سکیورٹی ضروریات سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
لبنانی وزیراعظم نے بھی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ اس کے نتیجے میں ہزاروں بے گھر افراد اپنے گھروں کو واپس جا سکیں گے۔
حزب اللہ کا مؤقف
حزب اللہ نے جنگ بندی پر مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے تمام حملے مکمل طور پر بند کیے جائیں۔ گروپ کا کہنا ہے کہ کسی بھی پائیدار معاہدے کے لیے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا خاتمہ اور سرحدی پابندیوں میں نرمی ضروری ہے۔
اسرائیل جنگ بندی پر عمل کریگا؟
اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل اس معاہدے پر مکمل عمل کرے گا یا نہیں۔ اگرچہ اسرائیلی قیادت نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل اپنے “دفاع کے حق” سے دستبردار نہیں ہوگا۔ اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی کامیابی کا انحصار صرف معاہدے پر نہیں بلکہ دونوں فریقوں کی عملی پابندی اور زمینی صورتحال پر ہوگا۔
عالمی ردعمل
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنگ بندی میں امریکی کردار کو سراہتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں۔
یورپی یونین نے اس پیش رفت کو “ریلیف” قرار دیا ہے جبکہ یورپی رہنماؤں نے کہا ہے کہ اس جنگ بندی کو دیرپا امن کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ایران نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور لبنان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
پس منظر
رپورٹس کے مطابق حالیہ مہینوں میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں شدت آئی تھی۔ اسرائیلی حملوں اور جوابی کارروائیوں میں سینکڑوں افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے، جبکہ ہزاروں شہری بے گھر ہو گئے۔
اس دوران اسرائیل نے جنوبی لبنان میں ایک “سکیورٹی بفر زون” بھی قائم کیا تھا، جسے وہ اپنی شمالی آبادی کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔
صورتحال کا جائزہ
ماہرین کے مطابق یہ 10 روزہ جنگ بندی اگرچہ ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اس کا مستقبل دونوں فریقین کے سیاسی فیصلوں اور زمینی حقائق پر منحصر ہوگا۔ اگر مذاکرات کامیاب رہے تو اسے طویل المدتی امن معاہدے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، بصورت دیگر دوبارہ کشیدگی بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔











