جمعرات,  28 مئی 2026ء
آوارہ باپ

سید شہریار احمد

 ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

بچے تو بگڑتے ہی ہیں، اب اگر باپ بگڑ جائے تو کیا ہے۔

دیکھو بھائی بڑی زبردست بات ہے، میں کہتا ہوں کہ آپ کے بچے تو بگڑ ہی گئے ہیں تو اب آپ بگڑ جائیں تو کیا حرج ہے؟

 

تمام والدین اپنے بچوں کو پالتے ہیں ،آپ بھی پال رہے ہیں۔

کتنے سالوں سے؟ 10 سال؟ 25 یا 35 سال ؟

میں تو 22 سال سے اسی چکی میں پس رہا ہوں۔

بچے پیدا کیے، ان کی تعلیم کا فکر، ان کے معاش، بچوں کی شادیوں کے مسائل،

لیکن بھائی اپنے لیے کب ٹائم نکالا میں نے ؟

 

ایک سہانی صبح میں نے آئینہ دیکھا تو گردن پر جھریاں نظر آئیں۔

آنکھوں کے نیچے بھی جھریاں، ماتھے پر بھی۔

میں ایک دم گھبرا گیا ،میرے اوسان خطا ہو گئے، میں دوسرے باتھ روم کے آئینے میں خود کو دیکھنے چلا گیا، وہاں مجھے کچھ اور نظر آیا،میری کنپٹیوں اور مونچھوں کے کچھ بال سفید ہو چکے تھے ،

چہرے پر جھریاں اور پھر سفید بال،

گھر کا ہر آئینہ میرے چہرے پر یہی دکھا رہا تھا، سفید بال، جھریاں،جھریاں، سفید بال اور دماغ یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ میں بڑھاپے میں داخل ہو چکا ہوں۔

بیوی بچوں کی دیکھ بھال میں اس جوانی کے 22 سال گزر گئے اور پتا بھی نہ چلا۔

مجھے گھر کے سارے آئینوں پہ سخت غصہ آنے لگا ،جی چاہا کہ انہیں توڑ ڈالوں ،گھر کے تمام آئینے مجھے میری حقیقت بتا رہے تھے اور مجھے ان سے نفرت ہونے لگی تھی۔

مکیش کا یہ گیت یاد آیا اور ساتھ رونا بھی۔

 

جانے کہاں گئے وہ دن

کہتے تھے تیری راہ میں

نظروں کو ہم بچھائیں گے

چاہے کہیں بھی تم رہو

چاہیں گے تم کو عمر بھر

تم کو نہ بھول پائیں گے۔

 

میں نے کتنے کام ایسے کرنا تھے جو میری شوق کے ساتھ میری ضرورت بھی تھے،کل کر لوں گا، چلو اگلے ماہ کر لیں گے، پہلے گھر کے یہ معاملات درست کر لوں پھر جم چلا جاؤں گا ، جو میوزک سیکھنے میں دلچسپی تھی وہ اگلے ماہ سے سیکھ لوں گا۔

میں اور پڑھنا چاہتا تھا، ہمیشہ یہی سوچتا تھا کہ اگلے سال کسی سبجیکٹ میں پرائیویٹ یونیورسٹی میں داخلہ لے لوں گا لیکن اب صورتحال یکثر بدل چکی ہے۔

آپ لوگ بھی اپنے آپ پر توجہ نہیں دے رہے، بہت دیر ہو گئی ہے میرے دوستو ،ہم کئی سالوں سے اپنے آپ سے بھی بیگانہ ہیں۔

اپنے آپ پر توجہ نہیں دے پائے۔

میں کہوں گا کہ اب بھی وقت ہے، بلکہ اب ہی صحیح وقت ہے ایک آوارہ باب بن جاؤ ۔

ہاں اپنے ہم خیال لوگوں سے ملو چاہے وہ عورت ہو یا مرد ،ان سے دوستی کر لو! وہ تم سے عمر میں بڑے ہیں یا چھوٹے اس میں شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں لیکن ان سے مل لیا کرو ،اپنے سکون کے لیے، اپنے من کی شانتی کے لیے ،تمہارا ایسے لوگوں سے ملنا بہت ضروری ہے جن سے مل کے تم کو اچھا محسوس ہو کیونکہ جب تم بیمار پڑو گے تو کوئی تمہاری تیمار داری کے لیے نہ آ سکے گا،

کوئی تمہاری دوائیوں اور میڈیکل ٹیسٹوں کے اخراجات برداشت نہ کرے گا اس لیے فوری طور پر وہ خرچہ جو تم اپنی فیملی پر کرتے ہو اس میں سے کچھ نہ کچھ اپنے لیے ،اپنے برے وقت کے لیے پس انداز کر لیا کرو۔

اپنے آپ کو بچاؤ پہلے پھر دوسروں کی طرف متوجہ ہونا۔

آپ لوگ جانتے ہیں کہ جب آپ ہوائی سفر کرتے ہیں تو فضائی میزبان آپ کے سامنے ایک ڈیمونسٹریشن کرتی ہے اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ اگر سفر کے دوران آکسیجن کا لیول ختم ہو جائے تو آکسیجن ماسک آپ کے سامنے گریں گے، اگر آپ کے ساتھ آپ کی بیوی ،کوئی بچہ یا کوئی ضعیف مسافر بیٹھا ہے تو اس کی طرف متوجہ نہیں ہونا، پہلے آکسیجن ماسک اپنے چہرے پر لگانا ہے۔ پہلے اپنے آپ کو بچانا ہے۔ خود سانس لو گے تبھی دوسرے کو بچا سکو گے۔ اگر دوسروں کو ماسک لگانے لگو گے تو اتنی دیر میں ہو سکتا ہے کہ تمہاری زندگی ٹائیں ٹائیں فش ہو جائے۔ اس لیے تمہاری زندگی، تمہاری صحت، سب سے پہلے مقدم ہے اور پھر آج کل تو ایسی سہولیات میسر ہیں کہ تم اپنے بیوی بچوں سے فون پر بات کر سکتے ہو ،ویڈیو کال کر سکتے ہو، انہیں پیسوں کی ضرورت ہے تو وہ انہیں ٹرانسفر کر سکتے ہو، بس اپنے آپ پر توجہ دینا ہے ابھی۔

میں یہ تو نہیں کہتا کہ ذمہ داری سے فرار ہو جاؤ، تمہیں اپنے خاندان کی ذمہ داری لینی ہے لیکن اس سے پہلے اپنی ذمہ داری لو،خود کا خیال رکھو۔

اب میں آوارہ باپ بن گیا ہوں۔

تم بھی بن جاؤ۔

اگر اکیلے ہو تو کہیں اکیلے گھومنے چلے جاؤ۔

مجھے بھی اکیلے ہی جانا ہے۔ اکیلے بی جاؤں گا تو کوئی نہ کوئی ہمسفر تو مل ہی جائے گا

مزید خبریں