کراچی(روشن پاکستان نیوز) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئےمالی سال کا 3.562 کھرب روپے کا بجٹ پیش کر رہا ہوں جس میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف دیا گیا ہے۔
مراد علی شاہ نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ اور ایڈہاک ریلیف الاؤنسز ضم کرنے کا اعلان کیا، ساتھ ہی کہا کہ مزدور کی کم ازکم اجرت 40ہزار سے بڑھا کر 43ہزار روپےکی جا رہی ہے۔
کیٹی بندر
کیٹی بندر کو عالمی بحری، لاجسٹکس، انڈسٹریل اور توانائی مرکز بنانےکا پختہ عزم ہے شہیدذوالفقار علی بھٹو نےپورٹ قاسم کی بنیادرکھی تھی اور اب بلاول بھٹو کیٹی بندر کی نئی معاشی تقدیر رقم کریں گے، پورٹ قاسم کے بعد کیٹی بندر سندھ کی معاشی ترقی کا اگلا عظیم سنگ میل بنےگا، کیٹی بندر کے ذریعے پاکستان عالمی تجارتی راستوں سے مزید مضبوطی سےمنسلک ہوگا، کیٹی بندرمنصوبہ دھابیجی اسپیشل اکنامک زون اور تھر کوئلہ وسائل سے منسلک ہو گا، ہم کیٹی بندر کو پاکستان کا نیا معاشی اور بحری گیٹ وے بنائیں گے۔
سولر پروگرام
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بلاول بھٹو کے وژن کے مطابق سندھ کو قابل تجدید توانائی کا مرکز بنایا جا رہا ہے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سولر پروگرام شروع کیا جا رہا ہے عالمی سرمایہ کاری کے لیے سندھ گرین ڈیٹا انفرااسٹرکچر انیشیٹو کا آغاز کیا جا رہا ہے، عالمی معیار کے ڈیٹا سینٹرز اور اےآئی انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری لائی جائے گی۔
18ارب کی لاگت سے 2لاکھ75ہزار مفت سولر ہوم سسٹمز تقسیم کریں گے، غریب گھرانوں کوپہلےہی مفت سولر سسٹمز فراہم کر چکےہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے متوسط طبقےکےلیے رعایتی سولر فنانسنگ پروگرام متعارف کرانے کا اعلان بھی کیا۔
کراچی
کراچی کے میگا ترقیاتی منصوبوں پر سندھ حکومت کی خصوصی توجہ ہے کراچی کے لیے مجموعی طور پر816 ترقیاتی منصوبے بجٹ میں شامل ہیں جن کہ کُل لاگت 644.3 ارب روپے ہے۔ مالی سال27-2026میں کراچی کیلئے 100 ارب 19 کروڑ روپے مختص ہیں جب کہ 500 ملین سے زائد لاگت کے167بڑے منصوبے کراچی میں جاری ہیں، کراچی میں 1000ملین سے زائد لاگت کے 110میگا منصوبے شامل ہیں۔
مراد سعید کی سینیٹ کی خالی نشست پر ضمنی انتخاب مؤخر
- کراچی کی تمام اسکیموں سمیت 822 منصوبوں کیلئے 108.1ارب روپے مختص ہیں، انفرااسٹرکچر، ٹریفک، صفائی، پانی، تعلیم کے اربوں کے منصوبے بجٹ کا حصہ ہیں۔
- کراچی ایئرپورٹ روڈ سے اسٹار گیٹ تک 1.2 ارب کی لاگت سے نئے فلائی اوور کی تعمیر کا منصوبہ
- ملیر ہالٹ سے شارع فیصل تک 1.5ارب کی لاگت سے رائٹ ٹرن انڈر پاس تعمیر ہو گا
- گجرنالہ پر سر شاہ سلیمان روڈ کراسنگ فلائی اوور کیلئے 1.65 ارب روپے مختص
- شاہراہ بھٹو اور کورنگی کاز وے جنکشن منصوبے کےلیے 15کروڑ 90 لاکھ روپے مختص
- عظیم پورہ انٹرسیکشن فلائی اوور اور شاہ فیصل روڈ کیلئے 10کروڑ 50لاکھ روپے مختص
- بڑے برساتی نالوں کی تعمیر و بحالی کے تیسرے مرحلے کیلئے ایک ارب روپے کا منصوبہ
- گجرنالہ کی بحالی اور سروس روڈز کی تعمیر کا ایک ارب 10کروڑ کا منصوبہ
- ایم نائن سے تھدو نالہ تک اسٹورم واٹر ڈرین منصوبے کے لیے 28کروڑ روپے مختص
- صدرٹاؤن کی سڑکوں اور انفرااسٹرکچر کی بحالی کے لیے 31کروڑ 94 لاکھ روپے مختص
- ڈولمن مال سے چائنہ پورٹ کلفٹن تک سی وال اور ساحلی سڑک کیلئے 5کروڑ روپے مختص
- شاہراہ بھٹو ایکسپریس وے تک نئی رابطہ سڑک کےلیے 70کروڑ 38لاکھ روپے مختص
- 6جدید گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز کے منصوبے کے لیے 166کروڑ روپے کی لاگت مقرر
- سالڈ ویسٹ ایمرجنسی اینڈ ایفیشنسی پروگرام کےلیے 9 ارب روپے سے زائد فنڈز مختص
- جام چاکرو اور گوند پاس لینڈ فل سائٹس کی اپ گریڈیشن کا 118کروڑ کا منصوبہ
- کےفورمنصوبے سے منسلک پانی فراہمی نظام کی توسیع کیلئے57 کروڑ52 لاکھ مختص
- ضلع شرقی اور وسطی کے واٹر پمپنگ اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن کیلئے 1ارب روپے مختص
- مرکزی واٹر ٹرنک مین سسٹم کی مرمت اور لیکیجز کے خاتمے کا منصوبہ
- لیاری ایکسپریس وے کے ساتھ نئی واٹر سپلائی لائن کیلئے 127کروڑ روپے مختص
- سندھ انفیکشن ڈیزیز اسپتال کراچی کےلیے ایک ارب روپے مختص
- کراچی میں نئے میڈیکل کالج کے قیام کےلیے ترقیاتی فنڈز جاری کیے جائیں گے
- لیاری میں بلاول بھٹو انجینئرنگ کالج کے منصوبے پر 184کروڑ سے زائد لاگت آئے گی
- شہید ذوالفقار علی بھٹو لا یونیورسٹی کےلیے 20کروڑ روپے مختص،
- کراچی ایجوکیشن کمپلیکس منصوبے کےلیے ترقیاتی فنڈز جاری کیے جائیں گے
- سندھ ریونیو بورڈ کی نئی ٹریننگ اکیڈمی اور دفتر کا قیام بجٹ میں شامل
- صوبائی سول سروسز اکیڈمی کے قیام کےلیے 1ارب روپے مختص
- کراچی میں کاروباری مراکز اور مارکیٹوں کی بہتری کے لیے 26کروڑ 25 لاکھ روپے مختص
- کراچی میں ٹرانسپورٹ، پانی اور نکاسی آب کے منصوبے ترجیح ہیں
- واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ فیز ٹو کیلئے فنڈز مختص کیے ہیں
- گریٹر کراچی سیوریج پلان ایس تھری پر کام جاری رکھنے کیلئے ایک ارب روپے مختص
- کےفور واٹر سپلائی منصوبے اور متعلقہ اسکیموں کےلیے فنڈنگ جاری رہیں گے
- کراچی ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کے لیے13.2 ارب روپے مختص ہیں
- یلو لائن بی آر ٹی کوریڈور کےلیے 3.5 ارب روپے سے زائد فنڈز رکھے گئے ہیں
- کراچی سیف سٹی پروجیکٹ کے فیزون اور فیز ٹو کےلیے بجٹ مختص کیا گیا ہے
- جدید فرانزک لیبارٹری اور فرانزک سائنس ایجنسی کے قیام پر کام تیز کریں گے
- این آئی سی وی ڈی میں بچوں کے امراض قلب یونٹ کیلئے 1.4 ارب مختص
- کلفٹن میں متبادل ٹریفک روٹس کی تعمیر کا نیا منصوبہ بجٹ میں شامل ہے
- کراچی فائربریگیڈ کی بین الاقوامی معیار کے مطابق جدیدکاری کا منصوبہ منظور
- لیاری ٹرانسفارمیشن پیکج کے لیے بجٹ میں 4.37 ارب روپے مختص
- ملیر ایکسپریس وے سے منسلک نئے انٹرچینج اور رابطہ سڑکوں کے منصوبے شامل ہیں
- خیابان اتحاد اور خیابان شہباز پر دو نئے انڈر پاسز تعمیر کیے جائیں گے
- ایم9 اور ابوالحسن اصفہانی روڈ کے سنگم پر نئےانٹرچینج کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا
- شاہراہ فیصل، ملیر ہالٹ اور اسٹار گیٹ پر ٹریفک روانی بہتر بنانے کے منصوبے شامل ہیں
- نئی اسٹریٹ لائٹس اور انفرااسٹرکچر اپ گریڈیشن منصوبے شروع کیےجائیں گے
- جدید گاربیج ٹرانسفراسٹیشنز اور ویسٹ مینجمنٹ منصوبوں پر کام جاری ہے
- شاہراہِ بھٹو اور ملیر ایکسپریس وے کے اطراف شجرکاری منصوبہ جاری ہے
- کراچی یونیورسٹی اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کیلئے ترقیاتی فنڈز مختص کیےگئے ہیں
- اسپورٹس کمپلیکس، اسٹیڈیمز اور نوجوانوں کے منصوبوں کیلئے فنڈز مختص کیےگئے ہیں
زرعی سپر ٹیکس
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ زرعی سپر ٹیکس کی استثنیٰ کی حد 150ملین سے بڑھا کر 500 ملین روپےکر دی، زرعی سپرٹیکس کی شرح کو بھی 10فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دیا۔
ترقیاتی پروگرام
نئے مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 400 ارب روپے مقرر ہے لوکل گورنمنٹ اور میونسپل انفرااسٹرکچر کیلئے سب سے زیادہ 121.6 ارب روپے مختص ہیں۔
پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کےلیے40.9 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی اوت ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے منصوبوں کےلیے 39.5ارب روپے مختص کیے گئے ۔
آبپاشی منصوبوں کےلیے بجٹ میں 30.9 ارب روپے کی رقم رکھی گئی۔ تعلیم کے شعبے کےلئے 25.9ارب روپے کی ترقیاتی رقم مختص کی گئی ہے۔
صحت کے شعبےکےلیے 17.4 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مقرر کیا گیا۔ زراعت اورلائیوسٹاک کےترقیاتی کاموں کے لیے 6.3 ارب مختص کیے گئے ہیں۔











