منگل,  16 اپریل 2024ء
امریکہ کی طرح پاکستان میں بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی ہونی چاہئے؟

مانچسٹر(شہزاد انور ملک سے )اس جدید ڈیجیٹل دور میں ہر فرد بنیادی خاندانی اصولوں کو نظرانداز کر کے اپنا طرز زندگی بہتر سے بہتر بنانے میں مصروف ہے جس سے بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، کیونکہ وہ مستقل سیکھنے اور نئے تجربات سے گزرنے کے مرحلے میں ہیں اور یہی وقت ان کی شخصیت کو ڈھال رہا ہے۔

امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں مقامی حکومت نے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ وہاں بھی یہی جواز پیش کیا گیا ہے کہ بچوں میں ڈپریشن اور خودکشی کے رجحان میں اضافے کی وجہ سے مختلف امریکی ریاستوں میںیہ اقدام کئے جارہے ہیں جبکہ دوسری جانب ایک مسلمان ملک پاکستان میں ایسا قدم اٹھانے کی کوئی بھی مقامی یا صوبائی حکومتیں جرآت نہیں کر پا رہی ہیں۔

حالانکہ حالات کا تقاضا تویہی ہے کہ غیر مسلموں کی طرح ہم مسلمان بھی نا سمجھ اور لا شعور بچوں کو اس لت سے نہ صرف بچائیں بلکہ ان کا یہی قیمتی وقت ان کی تعلیم اور تربیت میں لگانے کیلئے اقدامات کریں تاکہ کل کو وہ معاشرے کے ایک ذمہ دار شہری بن سکیں۔

روشن پاکستان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق اس جدید ڈیجیٹل دور میں ہر فرد بنیادی خاندانی اصولوں کو نظرانداز کر کے اپنا طرز زندگی بہتر سے بہتر بنانے میں مصروف ہے جس سے بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، کیونکہ وہ مستقل سیکھنے اور نئے تجربات سے گزرنے کے مرحلے میں ہیں اور یہی وقت ان کی شخصیت کو ڈھال رہا ہے۔

مزیدپڑھیں:برطانیہ میں میوزیکل نائٹ پروگرامزاوورسیز پاکستانیز کی عدم دلچسپی کے باعث مکمل فلاپ

ڈیجیٹلائزیشن روز بروز ہماری زندگیوں میں پنجے گاڑتی جا رہی ہے۔ بڑے تو بڑے اب بچے بھی زیادہ تر گیجٹس اور سوشل میڈیا میں ہی کھوئے رہتے ہیں، اگرہم ماضی پر نظر ڈالیں اور اپنا بچپن یاد کریں تو جب ہم بچے تھے یا لڑکپن کو پہنچ چکے تھے، اس وقت ہمارے پاس ذاتی فون اور ہائی ٹیک گیجٹ نہیں تھے۔

دور حاضر میں خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور لوگ ایک دوسرے سے الگ تھلگ اور تنہائی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم اپنے بچپن میں جوائنٹ فیملی سسٹم یعنی مشترکہ خاندانی نظام میں رہتے تھے جہاں ہر شخص باہم مربوط اور ایک دوسرے پر انحصار کرتا تھا۔

والدین کو ہمیں یہ سکھانے کی ضرورت نہیں پڑی تھی کہ ہمیں مل جل کرکھانا پینا ہےاور ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کرنے میں کوئی عار نہیں تھا۔ ہم گھر کے ہر فرد سے بات چیت اور مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ ہم جوائنٹ فیلمی سسٹم میں رہ رہے تھے، لہذا ہمیں لوگوں کے رش سے گھبراہٹ کا سامنا نہیں ہوتا تھا، ہمیں چیزوں کے دوسروں کے استعمال کرنے سے غصہ آتا تھا نہ جھنجھلاہٹ ہوتی تھی، اب بھی ایسا ہی ہے۔ یہ اسی دور کی تربیت ہے کہ ہماری نسل بغیر طلب کیے دوسروں کو مدد کی پیش کش کرنے کی عادت بھی رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:چینی قافلے پر حملہ:وزیراعظم نے آج اعلیٰ سطح کا سکیورٹی اجلاس طلب کرلیا

ان دنوں بچے الگ تھلگ طبیعت کے مالک، ضدی اور خود غرض بنتے جا رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایسے گھروں میں رہ رہے ہیں، جہاں کوئی مشترکہ خاندانی نظام نہیں۔ اس کے علاوہ گیجٹ اور سوشل میڈیا کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی انہیں تنہا کر رہا ہے۔ ورچوئل دنیا انہیں موبائل فون سے باہر موجود حقیقی دنیا سے دور کر رہی ہے۔

بچے اپنے خول سے باہر آنے اور تنہائی ختم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ ماحول ان کی فطرت کو کم روادار، عجلت پسند اور انا پرست بنا رہا ہے جو ہمارے مستقبل کے لیے خطرناک ہے، آخر بچے قوم کا مستقبل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کی غلط استعمال کی وجہ سے معاشرے میں بے راہ روی ، فحاشی، عریانی اوربے حیائی عام ہے، بچوں کی ناسمجھی اور لاشعور ہونے کی وجہ سے آئے روز ملک کے کسی نہ کسی حصے میں مختلف قسم کے سنگین اور رونگٹے کھڑے کردینے والے واقعات سننے کو ملتے ہیں، خصوصا ایسے نا سمجھ بچے نہ صرف بے حیائی کے مرتکب ہو رہے ہیں بلکہ والدین اور اپنے بڑوں کی عزتوں کو بھی پامال کیا جا رہا ہے ۔

سوشل میڈیاکے سرعام اور 24گھنٹے استعمال کی وجہ سے بچوں کو اپنے بڑوں کی قدراورمعاشرتی رواداریاں بھولتی جارہی ہیں۔

سوشل میڈیا کا مسلسل استعمال بچوں اور نوجوانوں کو شراب نوشی، منشیات، سگریٹ اور جوئے جیسے نقصان دہ رویوں کی جانب راغب کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں فوری طور پر امریکہ کی طرح کم عمر بچوں پر سوشل میڈیاکے استعمال پرفوری پابندی عائد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کی اصلاح کی جا سکے اور انہیں معاشرے کا باعزت شہری بنایاجائے۔

ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ امریکی ریاست فلوریڈا میں 14 سال سےکم عمربچوں کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرنے پرپابندی عائد کردی گئی ہے۔

چودہ سال سے کم عمربچوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ بنانے کی اجازت نہیں ہوگی جب کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو 14 سال سی کم عمربچوں کے موجودہ اکاؤنٹس کو حذف کرنا ہوگا۔

ریاست فلوریڈا کیگورنر رون ڈی سانٹس نے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پرپابندیوں کے قانون پر دستخط کردیے۔

پابندی کا اطلاق یکم جنوری 2025 سے ہوگا۔

مزیدپڑھیں:َگیارہ پی ٹی آئی عہدیدار عمران خان سے ملنے اڈیالہ جیل پہنچ گئے

امریکی میڈیا کے مطابق حفاظتی خدشات کے پیش نظر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے خلاف پابندی لگائی گئی ہے۔کیلی فورنیا، کنساس اور دیگر کئی امریکی ریاستوں میں بھی بچوں کیسوشل میڈیا استعمال کی حدیں مقرر کی گئی ہیں۔

بچوں میں ڈپریشن اور خودکشی کے رجحان میں اضافے کی وجہ سے امریکی ریاستوں میں یہ اقدام کئے گئے ہیں جب کہ میٹا اور ٹک ٹاک سمیت سوشل میڈیا کمپنیوں کے اتحاد نے امریکی ریاستوں کے اقدام کوعدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔

سوشل میڈیاکمپنیوں کا مؤقف ہے کہ پابندی بچوں کے آزادی اظہار کے حق کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی کرتی ہے۔

مزید خبریں

FOLLOW US

Copyright © 2024 Roshan Pakistan News