محرم الحرام میں عزاداری کے آئینی و مذہبی حقوق پر قدغنیں ناقابلِ قبول ہیں، علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی ہدایت پر شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور سربراہ مرکزی محرم الحرام کمیٹی علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایامِ محرم الحرام میں برسوں سے جاری عزاداری کے پروگراموں کے حوالے سے پنجاب میں بعض اداروں کی جانب سے بے بنیاد رپورٹنگ، غیر ضروری پابندیوں اور اختیارات سے تجاوز کے باعث عزادارانِ اہلِ بیتؑ کو مشکلات کا سامنا ہے۔پریس کانفرنس میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ، سید سکندر عباس گیلانی ڈپٹی جنرل سیکرٹری، دوست علی ونگانی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری سندھ، مولانا محمود علی یعسوبی ضلع اسلام آباد، فرحت عباس شعبہ تبلیغات اسلام آباد سمیت سید فتح حیدر رضوی مرکزی صدر جے ایس او دیگر رہنما بھی شریک تھے۔ علامہ ڈاکٹر شبیر میثمی نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں محرم الحرام کا آغاز ہو چکا ہے، تاہم ہر سال کی طرح اس سال بھی عزاداری کے حوالے سے متعدد مسائل درپیش ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران عراق جانے والے زائرین کے لیے زمینی راستے فوری کھولے جائیں ۔ محرم اور صفر کی مناسبت سمیت رہبر شہید کی تدفین کے سلسلے میں بڑی تعداد کو مسائل درپیش ہیں ان کی مشکلات اور زمینی راستوں کی بندش ختم کی جائے۔ پنجاب پولیس کی جانب سے بلاجواز شرائط، شورٹی بانڈز اور مچلکوں کا مطالبہ، فورتھ شیڈول میں شامل کرنے، نظر بندی اور مقدمات کی دھمکیاں عوام کے آئینی، بنیادی اور مذہبی حقوق کے منافی ہیں۔انہوں نے کہا کہ صدیوں سے جاری مذہبی روایات اور عزاداری کے پروگراموں میں رکاوٹیں کھڑی کرنا اور ایس او پیز کے نام پر عزاداری کو محدود کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اس حوالے سے پنجاب حکومت اور متعلقہ حکام کو متعدد بار یادداشتیں پیش کی جا چکی ہیں، تاہم مسائل کے مستقل حل کی ضرورت ہے۔علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے وفاقی اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ عزاداران، بانیانِ مجالس اور لائسنسداران کو ہراساں کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور محرم الحرام کے دوران مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ شیعہ علماء کونسل پاکستان اپنے آئینی، مذہبی اور بنیادی حقوق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگی اور حکومت عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

مزید خبریں