اتوار,  08 فروری 2026ء

کالم

وقت ملے تو سوچیں ضرور!

شہریاریاں ۔۔ تحریر: شہریار خان ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر حکومتوں کے خلاف تقریریں جھاڑنے والے وہ اینکرز جو صرف چند گھنٹے سکرین پر آتے ہیں لاکھوں روپے تنخواہیں لیتے ہیں ۔ رپورٹرز کی خبروں پر کئی گھنٹے تجزیہ جھاڑنے والے یہ فنکار جو بھی بندر تماشا لگاتے ہیں اس

’اے جنت نظیر وطن تجھ پر تیرا سپوت قربان ہونے سے کبھی دریغ نہیں کریگا‘

پاک فوج کے جوانوں کی شہادت کی خبر سن کر پوری قوم سوگوار تھی۔ انکے گھر اور خاندان غمزدہ اور افسردہ ۔ انکے بال بچے ویران و آنسو بھری آنکھوں سے بوڑھے والدین کپکپاتے ہونٹ اور لرزتے ہاتھوں سے اکھڑی ہوئی سانسوں سے کبھی درودیوار کو دیکھتے کبھی انکی بچپن،

آج کا موازنہ 1971 کے حالات و واقعات سے؟

تحریر: علی شیر خان محسود جو شخص یا گروہ پاکستان کے آج کا موازنہ 1971 کے حالات و واقعات سے کر رہاہے۔ جسکو یہ محسوس ہو رہا ہوںکہ پھر اس جیسے سانحے کا ایک بار پھر سے پاکستانی عوام کو سامنا کرنا پڑیگا یا پڑ سکتا ہے۔ تو انکو نہ

کرپشن کا سارا ملبہ سیاستدانوں پرہی کیوں ڈالا جاتا ہے؟

تحریر: علی شیر ایک بات پاکستانی قوم کو آج تک سمجھ نہیں آئی کہ جب کرپشن کی بات کی جاتی ہے تو سارا ملبہ سیاستدانوں پر ڈالا جاتا ہے کہ وہ فنڈ ز اور قومی سرمایہ ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی بھیجتے ہیں۔ جسکا رونا دھونا ہم

آٹھ مارچ ۔۔۔ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
آٹھ مارچ ۔۔۔ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

تحریر:سید شہریار،ایڈووکیٹ ہائی کورٹ آٹھ مارچ خواتین کا عالمی دن روایتی جوش و خروش سے منایا گیا ، انگلینڈ میں 1850 تک جرمنی میں 1900 تک اور اٹلی میں 1919 تک عورتیں مملکت کا حق نہیں رکھتی تھی اور آج یہ ترقی پذیر ممالک اور معاشرے آزادی نسواں کے حقوق

پاک ایران تنازعہ کیا رنگ لائے گا؟

خلاصہ کلام داؤد درانی پاکستان کے صوبے بلوچستان میں ایران کی طرف سے فضائی حملے اور اس کے بعد جوابی کاروائی کے طور پر پاکستان کی طرف سے فوری طور پر ایران کے صوبے سیستان میں کاروائی نے دونوں ملکوں کے بیچ حالات کو کافی حد تک کشیدہ کر دیا

پاکستان میں لاڈلوں کی سیاست۔

خلاصہ کلامداؤد درانی پرانے زمانے کا ایک لطیفہ ہے کہ ایک دفعہ ایک قصبے میں میلہ لگا تھا قریبی گاوں کے ایک نوجوان کو میلہ دیکھنے کا شوق تھا کیونکہ اس نے پہلے کبھی میلہ نہیں دیکھا تھا سو وہ ایک قیمتی چادر پہن کر میلہ دیکھنے گیا وہاں وہ

ہماری سیاسی پارٹیاں اور منشور

خلاصہ کلام داؤد درانی وہ ممالک جہاں پائیدار جمہوریت ہوتی ہے وہاں سیاسی پارٹیاں عوامی امنگوں کی ترجمانی کا کام کرتی ہیں ان ممالک میں سیاسی پارٹیاں عوام کی ہوتی ہیں اور سیاسی پارٹیوں میں مکمل طور پر جمہوریت ہوتی ہے اور قطعی طور پر ان سیاسی پارٹیوں میں مخصوص

صاف اور شفاف انتخابات

خلاصہ کلامداؤد درانی کیا آنے والے انتخابات شفاف،آذادانہ اور منصفانہ ہونگے یہ وہ سوال ہے کہ جس کو انگریزی میں ملین ڈالر سوال کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا جواب شاید کسی بھی پاکستانی کے پاس نہیں ہے۔ یہ سوال صرف 8فروری کو ہونے والے انتخابات کے بارے میں نہیں

سیاسی پارٹیاں الیکشن سے قبل منشور کے نام پر عوام کو سبز باغ دکھاتی ہیں۔

خلاصہ کلام داؤد درانی وہ ممالک جہاں پائیدار جمہوریت ہوتی ہے وہاں سیاسی پارٹیاں عوامی امنگوں کی ترجمانی کا کام کرتی ہیں ان ممالک میں سیاسی پارٹیاں عوام کی ہوتی ہیں اور سیاسی پارٹیوں میں مکمل طور پر جمہوریت ہوتی ہے۔ قطعی طور پر ان سیاسی پارٹیوں میں مخصوص شخصیات