سیاسی پارٹیاں الیکشن سے قبل منشور کے نام پر عوام کو سبز باغ دکھاتی ہیں۔

خلاصہ کلام

داؤد درانی

وہ ممالک جہاں پائیدار جمہوریت ہوتی ہے وہاں سیاسی پارٹیاں عوامی امنگوں کی ترجمانی کا کام کرتی ہیں ان ممالک میں سیاسی پارٹیاں عوام کی ہوتی ہیں اور سیاسی پارٹیوں میں مکمل طور پر جمہوریت ہوتی ہے۔

قطعی طور پر ان سیاسی پارٹیوں میں مخصوص شخصیات کی اجارہ داری نہیں ہوتی ان ممالک میں سیاسی پارٹیاں عوام کو سیاست اور جمہوریت سکھاتی ہیں جس کی وجہ سے یہ ممالک ہر میدان میں ترقی کرتے ہیں اور یہاں قائم ہونی والی ہر حکومت حقیقی معنوں میں عوام کی حکومت کہلاتی ہے۔

پائیدار جمہوری ممالک میں سیاسی پارٹیاں عام انتخابات سے قبل عوام کے سامنے اپنے منشور کو پیش کرتی ہیں اور وہاں کے لوگ بھی ان پارٹیوں کے منشور کو دیکھ اس کے مطابق کسی بھی سیاسی پارٹی کو ووٹ دینے کا فیصلہ کرتے ہیں ان ممالک میں کوئی بھی شخص یہ نہیں کہتا کہ یہ میرے باپ دادا کی پارٹی ہے اس لیے جو بھی ہو میں تو اسی پارٹی کو ہی ووٹ دونگا۔

پائیدار جمہوری ممالک کے عوام ہر مرتبہ کسی بھی سیاسی پارٹی کو اس کی کار کردگی پر ووٹ دیتے ہیں ہمارے ملک میں 75سال گزرنے کے باوجود جمہوریت جڑ پکڑ نہیں سکی جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں سیاسی پارٹیاں تو موجود ہیں لیکن کسی کو یہ پتہ نہیں کہ انکا کردار کیا ہے؟

ایک زمانہ تھا کہ انتخابات سے قبل ہمارے ملک میں بھی سیاسی پارٹیاں منشور عوام کے سامنے پیش کرتی تھیں مگر اب تو عوام کیا سیاسی پارٹیوں کو بھی شاید پتہ نہیں کہ منشور کس بلا کا نام ہے؟

ہمارے ہاں سیاسی پارٹیاں الیکشن سے قبل منشور کے نام پر عوام کو سبز باغ دکھانے کی کوششیں کرتی ہیں لیکن چونکہ یہ وعدے ہمیشہ جھوٹے ہوتے ہیں اور ملکی کے حالات کے مطابق نہیں ہوتے اس لیے اس پر عمل نا ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ 1970

کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے روٹی،کپڑا مکان کا نعرہ لگایا لیکن جب پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوئی تو پاکستان کے عوام بدستور روٹی،کپڑے اور مکان کے لیے ترس رہے تھے۔

دوسری طرف عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمان نے مشرقی پاکستان کے عوام کے لیے خود مختاری حاصل کرنے کا وعدہ کیا جس میں اسے ایسی کامیابی ملی کہ خود مختاری تو کیا انہیں مکمل آذادی مل گئی۔

اس کے بعد گو کہ پاکستان میں فوجی آمریت کے سائے طویل عرصے تک چھائے رہے لیکن اس کے بعد جب ملک میں جمہوریت بحال ہوئی تو اسے کنٹرولڈ جمہوریت ہی کہا جا سکتا ہے جس میں ہرسیاسی پارٹی کے لیے اقتدار کے حصول کے لیے پاکستان کی مضبوط اسٹبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنا مجبوری بن گئی اور یوں سیاسی پارٹیوں کے لیے یہ ضروری نہ رہا کہ عوام کو اپنے منشور پر قائل کرکے ان سے ووٹ لیا جائے ۔

کیونکہ انہیں پتہ چل چکا تھا کہ ووٹ سے زیادہ دیگر چیزیں اہمیت رکھتی ہیں پھر ایک طویل عرصے کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں تبدیلی کا نعرہ لگایا اور قوم سے وعدہ کیا کہ اقتدار ملنے کے بعد ملک میں صرف نوے روز میں دس لاکھ گھر بنائے جائیں گے،ایک کروڑ لوگو ں کو روز گار مہیا کیا جائے گا،تین سو ڈیم بنیں گے،ایک ارب درخت لگائے جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔مگر جب انہیں حکومت ملی تو ان میں سے کسی وعدے پر بھی عمل نا ہو سکا اور تبدیلی یوں آئی کہ ڈالر 110سے 180پر چلا گیا اشیائے خوردو نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں اور ملکی معیشت تباہی سے دو چار ہونے لگی۔

اب جبکہ 8فروری 2024کے عام انتخابات سر پر ہیں کسی بھی سیاسی پارٹی نے قابل عمل منشور قوم کے سامنے نہیں رکھا اور حسب معمول ایک سیاسی پارٹی نے قوم سے ایسے وعدے کیے ہیں کہ ملک کی موجودہ معاشی حالت میں اسے پورا کرنا آئندہ دس سال میں بھی شاید ممکن نہیں ہے۔

ملک میں بجلی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور اس بات کی کوئی امید نظر نہیں آرہی کہ مسقبل قریب میں پاکستانیوں کو وافر مقدار میں سستی بجلی مل سکے گی لیکن پیپلز پارٹی کا نعرہ ہے کہ برسر اقتدار آنے کے بعد ہم عوام کو تین سو یونٹ بجلی مفت فراہم کریں گے ۔

اسی طرح تحریک انصاف کی طرح دس لاکھ گھروں کا وعدہ بھی کیا گیا ہے جبکہ عوام کو مزید بھکاری بنانے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اضافہ جبکہ کسانوں اور نوجوانوں کی مدد کے لیے بینظیر انکم سپورٹ کی طرز پر پروگرام شروع کیا جائے گا۔

ان وعدوں میں کہیں پر بھی کوی ایسا وعدہ نہیں ہے کہ ملکی معیشت کی ترقی کے لیے کیا قدامات کیے جائیں گے،ملک میں صنعتی ترقی کے لیے کس قسم کے اقدامات کیے جائیں گے وغیرہ وغیرہ ۔لیکن دوسری طرف پاکستان کے عوام بھی اپنی سیاسی پارٹیوں کی شعبدہ بازیوں سے پوری طرح سے واقف ہو چکے ہیں لہٰذا انہیں بھی اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی کا کیا منشور ہے اور اگر ہے تو کیا یہ موجودہ معاشی حالات میں قابل عمل ہے بھی کہ نہیں؟

وہ جانتے ہیں کہ انکے ووٹ دینے یا نا دینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا جس کو جیتنا ہے وہ انکے ووٹ کے بغیر بھی جیت جائے گا اور جس کو ہرانا ہے وہ ووٹ لینے کے باوجود بھی بہر صورت ہارے گا۔

پاکستان کی مذہبی سیاسی پارٹیوں کے اتحاد کو ماضی میں صوبہ خیبر پختون خوا میں پانچ سال تک حکومت کرنے کا موقع ملا لیکن انہوں نے کسی بھی شعبے میں اپنے وعدوں کے مطابق اسلامی نظام نافذ کرنے کا کام نہیں کیا اسکے باوجود وہ آج بھی ہر الیکشن سے قبل ملک میں اسلام کے نفاذ کے نعرے لگاتے رہتے ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ آنے والے عام انتخابات ملک میں جمہوریت کے دوام اور فروغ کے لیے بہت ضروری ہیں لیکن سیاسی پارٹیوں اور عوام کے بیچ اعتماد کا رشتہ قائم ہونا بھی بہت ضروری ہے جو موجودہ حالات میں تو ممکن دکھائی نہیں دے رہا اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ملک میں سیاسی پارٹیوں کو مکمل آزادی سے کام کرنے دیا جائے اور ہر سیاسی پارٹی کو اقتدار عوام کے ووٹ سے ہی ملے نا کہ اسٹبلشمنٹ کی تابعداری سے۔