منگل,  21 مئی 2024ء
پاکستان میں لاڈلوں کی سیاست۔

خلاصہ کلام
داؤد درانی

پرانے زمانے کا ایک لطیفہ ہے کہ ایک دفعہ ایک قصبے میں میلہ لگا تھا قریبی گاوں کے ایک نوجوان کو میلہ دیکھنے کا شوق تھا کیونکہ اس نے پہلے کبھی میلہ نہیں دیکھا تھا سو وہ ایک قیمتی چادر پہن کر میلہ دیکھنے گیا وہاں وہ میلے کی دلچسپیوں میں ایسے کھو گیا کہ کسی نے اس کی چادر اس سے چرا لی بیچارہ بہت پریشان ہوا اور اپنی چادر بہت تلاش کی لیکن مل نا سکی سو جب وہ گاوں واپس آیا تو جو بھی اس سے پوچھتا کہ میلہ کیسا تھا تو وہ جواب دیتا کہ میلہ ویلہ کچھ نہیں تھا سارا پروگرام میری چادر چرانے کے لیے بنایا گیا تھا۔

تو اس مرتبہ 8فروری 2024کے الیکشن کے بارے میں بھی اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ الیکشن ولیکشن نہیں ہیں صرف پاکستان تحریک انصاف کو ملک کی سیاست سے آوٹ کرنے کے لیے یہ سارا پروگرام بنایا جا رہا ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان،پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں دھکے کھانے کے بعد تحریک انصاف سے اسکا انتخابی نشان بیٹ یعنی بلا لے لیا گیا ہے اور یوں اب تحریک انصاف کے تمام امیدوار مختلف انتخابی نشانوں پر انتخاب لڑیں گے اب یہ بات واضح طور پر نہیں کہی جا سکتی کہ اس سے تحریک انصاف کی سیاست پر کوئی منفی اثر پڑے گا کہ نہیں۔

کیونکہ تحریک انصاف کے حامیوں کا یہ دعویٰ ہے کہ ہم اپنے امیدوار کو ہر صورت میں ووٹ دینگے چاہے وہ جس نشان پر بھی الیکشن میں حصہ لیں گے۔لیکن یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس سے تحریک انصاف کو ایک تو یہ نقصان ہوگا کہ الیکشن کے بعد سیاسی پارٹیوں کو انکے ووٹ کے تناسب سے جو مخصوص نشستیں خواتین اور اقلیتوں کی دی جاتی ہیں اس سے تحریک انصاف محروم ہو جائے گی ۔

کیونکہ اب چونکہ الیکشن میں تحریک انصاف نامی سیاسی پارٹی کا کوئی وجود ہی نہیں ہوگا لہٰذا اسے مخصوص نشستیں کیسے ملیں گی؟

اسی طرح اس کا ایک نقصان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انتخابات کے بعد تحریک انصاف کے امید وار جو آذاد حیثیت سے کامیاب ہونگے انہیں ملک کی مضبوط اسٹبلشمینٹ آسانی سے اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی سیاسی پارٹی میں شامل کرنے کے لیے مجبور کر سکے گی جس میں گاجر اور سوٹی کا فارمولا اپنایا جا سکتا ہے۔

اب یہ منحصر تحریک انصاف کے ان ممبران پر ہوگا جو آنے والے الیکشن میں آذاد حیثیت سے کامیاب ہونگے کہ وہ اسٹبلشمنٹ کا مقابلہ کس طرح سے کرینگے؟

اگر انہیں گاجر کالالچ دیا گیا تو وہ اپنے ایمان کو کس حد تک مضبوط رکھ سکیں گے اور اگر انہیں سوٹی دکھائی گئی تو وہ اسے کتنا برداشت کر پایں گے؟

تحریک انصاف کی وہ تمام اہم لیڈر شپ جس نے 2018کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی یا تو غائب ہے یا گرفتار ہے اور ان میں سے اکثریت پر الیکشن میں حصہ لینے کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں لہٰذا یہ ایک کڑا امتحان ہوگا تحریک انصاف کے نئے امیدواروں کے لیے کہ وہ آنے

والے عام انتخابات میں ملک کی مضبوط اسٹبلشمینٹ کا مقابلہ کس طرح سے کرتے ہیں؟ یوں تو پاکستان کے ہر الیکشن میں اسٹبلشمینٹ کا کوئی نہ کوئی پیارا ضرور ہوتا ہے ۔

جس کی جیت کی لیے مختلف حربے آزمائے جاتے ہیں لیکن 2013کے انتخابات تک یہ کام کسی حد تک ڈھکے چھپے انداز میں کیا جاتا تھا لیکن 2018کے انتخابات اور اب 2024کے انتخابات میں یہ کام مکمل طور پر کھلے انداز میں ہوتا ہوا دکھائی دے رہا اور اسٹبلشمینٹ اپنے پیارے کی مدد برسر عام کر رہی ہے۔

2018

کے عام انتخابات میں بہر صورت عمران خان کو کامیاب کرنے کے لیے اسٹبلشمینٹ نے ہر ممکن کوشش کی اور عمران خان کے مخالفین کو عدالتی احکامات کے زریعے باندھنے کی کوشش کی گئی تاکہ عمران خان کو مقابلے کے لیے کھلا میدان مل سکے اور اسکا کوئی مخالف اسے انتخابات میں نقصان پہنچانے کی پوزیشن میں نا ہو۔

لیکن اس کے باوجود اسٹبلشمینٹ نے تحریک انصاف کی حکومت کو اپنے قابو میں رکھنے کے لیے اسے پوری طرح سے پارلیمینٹ میں اکثریت نہیں دی جس کی وجہ سے عمران حکومت ساڑھے تین سال تک اسٹبلشمینٹ کی بیساکھی کے سہارے قائم رہی اور جیسے ہی یہ بیساکھیاں عمران خان سے کھینچ لی گئیں ۔

تحریک انصاف کی حکومت دھڑام سے گر پڑی اور اب حالت یہ ہے کہ اسی پیارے کو آنے والے عام انتخابات میں ہر صورت میں ہرانے کے لیے اسے اپنے سیاسی مخالفین کے سامنے باندھا جا رہا ہے تاکہ اسکے سیاسی مخالفین کو جیت کے لیے کھلا میدان میسر ہو۔

اب کی بار اسٹبلشمینٹ کا پیارا کون ہے کافی حد تک واضح ہوگیا ہے یہی وجہ ہے کہ اس مخصوص سیاسی پارٹی نے ابھی تک باقاعدہ انتخابی مہم بھی شروع نہیں کہ جبکہ عام انتخابات کے انعقاد میں اب تیس دن سے بھی کم کا عرصہ رہ گیا ہے۔

شاید اسے اس بات کی پوری یقین دہانی کروا دی گئی ہے کہ ذیادہ محنت کی ضرورت نہیں ہے اقتدار کا ہما ہر صورت میں آپ کے سر پر ہی براجمان ہوگا۔

شایدیہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنماء بلاول بھٹو زرداری بیچارے ہر جلسے میں یہی رونا روتے ہیں کہ ہمیں بھی لیول پلینگ فیلڈ مہیا کی جائے مگر فی الحال ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا اور پیپلز پارٹی کو آنے والے وقت میں حسب معمول صوبہ سندھ کی حکومت پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا۔

دوسری طرف ان تمام تر کوششوں کے باوجود اسٹبلشمینٹ اس چکر میں بھی ہے کہ اگر نتائج اسکی مرضی کے خلاف دکھائی دیے تو الیکشن کو ہی کچھ عرصے کے لیے ملتوی کیوں نہ کردیا جائے ۔

اس لیے کبھی سینٹ میں اور کبھی کسی سیاسی رہنماء کے زریعے اس قسم کے بیانات آتے رہتے ہیں کہ اس وقت ملک کی معاشی اور امن عامہ کی صورت حال اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ملک میں عام انتخابات کروائے جائیں بہر حال اب تو فروری میں ہی پتہ چلے گا کہ اسٹبلشمینٹ کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

مزید خبریں

FOLLOW US

Copyright © 2024 Roshan Pakistan News