







تحریر: سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ پاکستان کے مقبول اور خاص طور پر مسلم لیگ نون مخالف حلقوں میں ہرد العزیز اینکر شاہد مسعود المعروف دبڑدوس ایک بہترین کھلاڑی کی طرح جو زبردست اننگز کھیل رہا ہو جلد بازی میں باہر جاتی ہوئی گیند کو کھیلتے ہوئے آؤٹ ہو

گستاخیاں۔۔۔تحریر: خالد مجید ابھی صبح کے اٹھ بجے تھے رنگ برنگے لباس میں موجود لوگ ادھر ادھر پھر رہے تھے ہاتھوں میں پھولوں کی پتیوں کے شاپر اگر بتیاں عرق کلاب اور پھولوں کی چادریں پکڑے ہوئے تھے اور کچھ غم زدہ سٹیٹس لگانے میں بھی غلطاں سیلفیاں بنا رہے

شہریاریاں ۔۔۔ شہریار خان پولیس کے ساتھ ہمدردی کی باتیں بہت زیادہ کی جا رہی ہیں۔۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم تصویر کا ایک رخ دیکھتے ہیں۔۔ دوسری جانب کا موقف ہم جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ چند واقعات ماضی کے ہیں جو میرے خاندان اور مجھ

سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ اب چونکہ پاکستان بھر میں ٹی ٹی پی کی دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری ہیں اور تقریبا ہر دوسرے روز ہم سنتے ہیں کہ عوام، سرکاری اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے معمول بن چکے ہیں تو اج طالبان پر بات کی

آج کے اخبار میں عید کے حوالے سے کچھ پیغامات پر نظر پڑی تو میں نے سوچا اپ سے بھی شیئر کر لوں عید کے دن کے پیغامات عوام کے نام سنیں، انجوائے کریں، روئیں یا پھر ہنسیں یہ اپ کے مزاج پر منحصر ہے یا چلائیں اور انہیں گالیاں

جب سے امریکہ اور نیٹو فورسز کو کئی سالہ جنگ کے بعد افغانستان میں شکست ہوئی ہے۔ جسکے سبب تمام ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ممالک اپنے جدید ترین دفاعی سازو سامان اور بہترین تربیت یافتہ فوج اور تربیت یافتہ خفیہ اداروں سمیت بے سرو سامانی کے عالم میں افغانستان سے

سید شہریار احمد ایڈوکیٹ ہائی کورٹ یہ ہے وہ گفتگو جو اپ کو ہر محفل میں، ہر دکان پہ، ہر گلی محلے میں، رمضان کے اخری دو دنوں میں سننے کو ملے گی شام کو خیال ایا کہ ممکن ہے کل عید ہو جائے کیونکہ حسب روایت مسلمانوں میں بحث

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ابرار خان (ریٹائرڈ) بچوں کے بورڈ کے امتحانات نزدیک ہیں ایسے میں اساتذہ کرام، والدین اور عزیز واقارب کی جانب سے بچوں پر اچھے نتائج لانے کے لیے جو دباؤ ڈالا جاتا ہے اس سے اکثر و بیشتر مثبت اثرات کے بجائے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

گستاخیاں۔۔تحریر: خالد مجید یہ کوئی حکایت ہے ،کوئی روایت ہے کہ بچوں کو بہلانے کے لیے کہانی ہے بات پرانی ہے مگر سچ ہے ، ایک بادشاہ نے رات کو گیدڑوں کی آوازیں سنیں تو صبح وزیروں سے پو چھا کہ رات کو یہ گیدڑ بہت شور کررہے تھے ۔۔۔

خوچہ چیں کرو یا پیں تول میں آیا ہے۔۔۔کسی نہ کسی قوم کے بارے میں کوئی نہ کوئی لطیفہ ضرور مشہور ہوتا ہے۔ ہم بھی بچپن سے سنتے چلے آرہے ہیں کہ ایک دیہاتی پٹھان نے کالے املوک دکاندار سے خرید لئے۔ اور پیدل چل پڑا۔ کسی شہر میں کام