اتوار,  08 نومبر 2026ء
قومی وحدت اور پاکستانی شناخت کے فروغ کے لیے تمام تعصبات کا خاتمہ ضروری ہے، ڈاکٹر حافظ خیر محمد جوئیہ

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) تعمیر ملت موومنٹ پاکستان کے بانی چیئرمین ڈاکٹر حافظ خیر محمد جوئیہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو ترقی، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے لسانی، علاقائی، مذہبی، مسلکی اور نسلی تعصبات سے بالاتر ہو کر قوم کو ایک پاکستانی شناخت کے تحت متحد کرنا ہوگا۔ قومی وحدت، انصاف، مساوات اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ موومنٹ کے منشور کا بنیادی حصہ ہے۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے موومنٹ کا 14 نکاتی منشور پیش کیا اور کہا کہ ملک میں صدارتی نظام حکومت کے نفاذ، پاکستان کو 12 انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے، مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے مؤثر اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی لا کر ترقی کے ثمرات دور دراز علاقوں تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔ڈاکٹر حافظ خیر محمد جوئیہ نے کہا کہ موومنٹ رنگ، نسل، زبان، مذہب، مسلک، ذات اور برادری سے بالاتر ہو کر ہر شہری کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرے گی۔ منشور میں 65 سال سے زائد عمر کے شہریوں کو مفت صحت، خوراک اور قانونی مشاورت کی سہولیات فراہم کرنے، سرکاری ریسٹ ہاؤسز اور غیر ضروری عمارتوں کو رہائشی سہولیات کے لیے استعمال کرنے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کے فروغ کی تجاویز بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت قوم نے مشترکہ شناخت اور بے مثال قربانیوں کے جذبے کے تحت وطن حاصل کیا، تاہم وقت کے ساتھ لسانی، علاقائی اور مسلکی تقسیم نے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچایا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام شہریوں کو پاکستانی ہونے کے مشترکہ رشتے میں متحد کیا جائے اور محروم طبقات کو انصاف اور مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔اس موقع پر موومنٹ کے چیف آرگنائزر راؤ زاہد تنویر، سوشل میڈیا انچارج محمد آصف، فنانس سیکرٹری چوہدری طارق حسین اور مشاورتی کونسل کے اراکین شہزاد خان، محمد اشفاق، رانا عمران آصف نیازی، چوہدری کاشف جٹ اور چوہدری سعد الرحمن بھی موجود تھے۔ڈاکٹر حافظ خیر محمد جوئیہ نے بتایا کہ موومنٹ ملک بھر میں عوامی رابطہ مہم شروع کر رہی ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے اپیل کی کہ وہ موومنٹ کے منشور اور سرگرمیوں کو عوام تک پہنچانے کے ساتھ اس کی پالیسیوں میں موجود خامیوں کی بھی نشاندہی کریں تاکہ اصلاح اور بہتری کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید خبریں