جمعرات,  05 نومبر 2026ء
دنیا بدل ریی ہے
دو رنگی دنیا اور ۔۔۔ایڈوکیٹ جنرل

دوحرف/رشید ملک

دھیرے دھیرے روشنی بڑھنے لگی ہے دنیا کے بعض ایسے ممالک میں بھی نوجوان نسل جسے آج کی دنیا جینزی(یعنی جدید ترین نسل)کے نام سے جانتی ہے کی ولولہ انگیز بیداری اور شعوری تحریکوں کی تاب نہ لانے کا اعتراف کر رہی ہے۔ ابتدائی ایام سے ہی یہ معیار تھا کہ نوجوان جس تحریک یا جدوجہد کا حصہ ہوں گے وہ کامرانیوں سے یقینا سرفراز ہوگی۔اس وقت عالمی ابلاغ کی جو اطلاعات اور حقائق محصول ہو رہے ہیں اس سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جینزی ایک جدید نسل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ذمہ دار اور حقیقت پسند نسل ہے یہ سطور لکھتے ہوئے مجھے دنیا کے گلوب پر ملک پاکستان کی عین بغل میں بنگلہ دیش نظر آ رہا ہے جہاں یونیورسٹیز کے طلبہ نے اس وقت کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی نا انصافیوں،بے ضابطگیوں اور غیر منصفانہ پالیسیو کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا،ملک گیر تحریک شروع کر دی،بنگلہ دیش کے صوبے اس کی لپیٹ میں آگئے ملک کے طول و عرض میں دارالحکومت ڈھاکہ سے شروع ہونے والی اس تحریک نے اس قدر زور پکڑا کہ اقوام عالم نے دیکھا بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب کی سپتری حسینہ شیخ واجد کو ملک سے فرار ہونا پڑا اور بھارت جیسے ایک سازشی پڑوسی ملک میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئیں۔ آخر بنگلہ دیش کے نوجوانوں کا مطالبہ کیا تھا؟ انہوں نے بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد فارغ التحصیل ہونے والے جامعات کے طلبہ کے لیے ملازمتوں کے دروازے یا تو بند ہونے پر یا پھر کوٹہ سسٹم کے تحت محدود کیے جانے پر بار بار کے مطالبات کے بعد احتجاجی تحریک کا راستہ اختیار کیا چشم فلک نے دیکھا کہ نوجوانوں کے ولولے اور حقائق پسندی پر مشتمل مطالبات کے آگے بنگلہ دیش کی تمام تر حکومتی مشینری بے بس ہو گئی۔ یہ تحریک بنگلہ دیش میں کامیابی سے ہمکنار ہونے کے بعد وہاں رجیم چینج کا باعث بنی اور پھر تصورات کا یہ سمندر حسینہ واجد کی جائے پناہ بھارت میں سونامی بن کر سامنے آیا کاکروچ پارٹی کہ جنتر منتر کے سامنے انتہا پسند مودی سرکار کو گھٹنے ٹیکنے پڑے بھارت کے کاکروچ ایک ہی مطالبہ کر رہے تھے کہ جامعات کی فیسوں میں بے دریغ اضافہ طلبہ کے لیے حصول تعلیم کی راہ میں علم کی پیاس بجھانے اور جدید دنیا کی تلاش و بسیار کے درمیان ایک بڑی رکاوٹ بن رہا ہے جسے فوری طور پر دور کرنا حکومت وقت کا اولین فریضہ ہونا چاہیے۔ ہٹ دھرم اور قصائی صفت مودی وزارت عظمی کے نشے میں ان بچوں کی آواز ان نوجوانوں کی چیخ و پکار سننے سے معذور رہا۔آخر ان بچوں کا مطالبہ کوئی نامناسب بھی نہیں تھا، وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ جامعات کے انتظامات کو چلانے میں وزارت تعلیم بری طرح ناکام ہو چکی ہے اس لیے فوری طور پر درسگاہوں کی طرف سے کیے گئے ان ظالما ظالمانہ اقدامات کو فوری طور پر غیر موثر بنایا جائے اور طلبہ کو اپنی تدریسی سرگرمیاں عمومی حالات کے مطابق جاری رکھنے کی اجازت دی جانی چاہئے ،اس کے ذمہ دار وزیر تعلیم فوری طور پر مستعفی یو جائیں۔ میں حیران ہوں کہ بھارت کے ان نوجوانوں نے صرف اور صرف پہلے کی طرح ہی جامعات کی پالیسیوں کو جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ان میں اصلاحات کی ڈیمانڈ کیوں نہ کی ایک عمیق مطالعہ کے بعد اندازہ ہوا کہ بھارت کے اندر شعوری طور پر بلند سوچ کے حامل یہ نوجوان طلبہ حکومت کی مشکلات کا ادراک رکھتے ہیں اسی لیے انہوں نے ایسے مطالبات نہیں رکھے جس سے بھارت کی سرکار کو مشکلات کا سامنا ہو، مگر قصائی صفت مودی کو جو عمر کے لحاظ سے اپنی سوجھ بوجھ کا توازن کھو چکا ہے نوجوانوں کی بات سمجھنے اور اس کا اندازہ لگانے میں انٹیلیجنس کی غلط رپورٹوں نے سوجھ بوجھ سے عاری کر دیا۔یہیں پر مودی سرکار مار کھا گئی نتیجتاً کچھ عرصہ اس تحریک کی موجودگی اور بڑھتی ہوئی شدت کا سامنا کرنے کی سکت،سرکار کھونے لگی اور پھر وزیر تعلیم کا استعفی پیش کرنا پڑا بھارت کے حکمرانوں کے لیے جامعات کے ان نوجوانوں کا یہ رویہ کئی پہلوؤں سے غور و فکر کی تشویش کی اور تجدید کی نئی جہتیں بچھا گیا ، مگر ایک طے شدہ ذہنیت کے زیر اثر مودی سرکار کے وہ روایتی فرسودہ سوچ کے حامل پارلیمنٹیرین اور سیاسی پنڈت نوجوانوں کے اس بدلتے ہوئے رجحان پر خود کو تبدیل کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ بھارتی وزیر تعلیم کے استعفے کے کچھ ہی دن بعد سرکار نوجوانوں سے کیے گئے معاہدے اور وعدوں سے منحرف ہو گئی جس پر جینزی ایک نئے عزم کے ساتھ دوبارہ احتجاج پر مجبور ہوئے۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے ہندوستان کے دارالحکومت دلی سمیت طول و عرض کی کئی ریاستوں میں نوجوانوں کی یہ تحریک دن بدن زور پکڑتی جا رہی ہے لاٹھی چارج،پولیس تشدد، گرفتاریوں،رینجرز پیرامیٹری فورسز کے استعمال کے تمام حربے استعمال کیے جانے کے باوجود نئی نسل کے یہ جدید لوگ بھارت سرکار کے قابو میں نہیں آ رہے۔ پورا بھارت لرز رہا ہے۔ ان حالات میں سیکولر سوچ رکھنے والی جماعتیں اس احتجاج میں شامل ہورہی ہیں۔ راہول گاندھی اور اس کی بہن سمیت جماعت کے بہت سارے رہنما جامعات کے طلبہ کے احتجاج میں بڑھ چڑھ کر شریک ہو رہے ہیں۔ یہ تحریک دن بہ دن کامیابیوں کی طرف بڑھ رہی ہے اور مودی سرکار کو ناکامیاں اپنے چنگل میں لے رہی ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ نوجوان ایک مثبت سوچ کے ساتھ انتہا پسندی چبر و تشدد اور جنگی عزائم کے ساتھ ساتھ بے رحمی اور متشدد رجیم کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ جینزی کی تحریک بنگلہ دیش بھارت تک محدود نہیں ہے بلغراد میں نوجوانوں نے کئی برسوں سے اقتدار کی مسند پر براجمان الگزینڈر ووچچ کے اتحاد کو بری طرح شکست دے دی ہے۔ نوجوان سٹوڈنٹ کی تشکیل کردہ سیاسی جماعت سٹوڈنٹ لسٹ نے سربیا کے حالیہ انتخابات میں تقریبا 53 فیصد نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ سابق صدر کی اتحادی جماعتوں کو تقریبا 39 فیصد نشستیں ملیں جینزی کے سیاسی شعور کو تسلیم کرتے ہوئے سربیا کے عوام نے سٹوڈنٹ لسٹ پارٹی کو 140 نشستوں سے سر فہرست کیا، جبکہ سابق صدر الیگزینڈر ووچچ 104 نشستوں کے حامل ٹھہرے۔ جینزی کا زور مزید تقویت پکڑتے ہوئے اسرائیل میں جارحیت پسند نیتن یاہو کو لے ڈوبا اور وہ اپنی مقبولیت کھو بیٹھے۔حالیہ الیکشن میں ان کے جنگی عزائم کو اور فلسطین کے نہتے بوڑھے اور بچوں سمیت خواتین پر بارود برسانے کی پالیسیوں کو خود اسرائیل کے اندر مسترد کر دیا گیا،جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دنیا حقیقت پسندی کی طرف بڑھ رہی ہے اور نوجوان ولولے سمیت شعور کے ساتھ آنے والے وقتوں کا ادراک رکھتے ہوئے درست سمت کا تعین کر رہے ہیں جارحیت پسند وزیراعظم کو اسرائیل میں شکست کے بعد نیتن یاہو کے سب سے بڑے حمایتی امریکی صدر ٹرمپ امریکہ کے اندر ہونے والے مڈٹرم الیکشن میں بری طرح شکست سے دوچار ہو گئے ہیں،یہ ایک اور دلیل ہے ترقی اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں امن پسندی کی طرف بڑھنے کی۔ٹرمپ کو امریکہ میں سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا،چلتے چلتے فرانس کے اندر نوجوانوں کی اساس محرومیت کا جائزہ نہ لیا جائے تو تحریر کا یہ پہلو تشنگی کا اظہار کرے گا گزشتہ کئی ہفتوں سے خوشبوؤں کا ملک فیشن کی دنیا کا سرخیل فرانس نوجوان نسل جینزی کے اوپر غیر منصفانہ پالیسیوں کو تھوپنے کی وجہ سے زیر عتاب ہے سرکار وہاں اعتراف کر رہی ہے کہ فرانس کے اندر کئی شہروں میں پولیس اپنا تسلط قائم رکھنے میں ناکام ہو چکی ہے یعنی پولیس کا کنٹرول ختم ہو گیا ہے اور نوجوانوں کے آگے بے بس ہو کر سر تسلیم خم کر چکی ہے محرومیوں کا دور ختم ہونے والا ہے دنیا جہاں جینزی کے زیر اثر آ رہی ہے وہیں وطن عزیز کے اندر یہ خوف بہ درجہ اتم بہرحال موجود ہے کہ یہاں بنگلہ دیش،بھارت، سربیہ ،فرانس ،امریکہ اور اسرائیل کی طرز پر نوجوان اٹھ کھڑے نہ ہوں۔ اگر ایسا ہو گیا تو حالات کیا رخ اختیار کریں گے اس کا ادراک کرنا صاحبان اقتدار کی ذمہ داری ہے بہرحال اس سے بچنے کے لیے نوجوانوں کو احساس محرومی سے آزاد کرنا ہوگا،جس نظر سے دنیا کو وہ دیکھ رہے ہیں جس نظر سے حالات کا وہ ادراک رکھ رہے ہیں ہمیں بھی اسی نظر سے دیکھنا ہوگا اور ان کے دکھوں کا مداوا کرنا ہوگا،ان کی سوچ کو ان کی فکر کو اہمیت دینا ہوگی ان کو پالیسیوں میں شامل کرنا ہوگا ان کے لیے تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے ہوں گے ان کے لیے روزگار کے دروازے کھولنے ہوں گے۔ ایسا کیوں ضروری ہے؟اس کا جواب اس وقت یہ ہے کہ دنیا بدل رہی ہے روشنیوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔

مزید خبریں