واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) امریکا میں کھیلوں کے مقابلوں پر سٹے بازی تو عام ہے، تاہم اب سیاسی میدان بھی جوئے کی منڈی بنتا جا رہا ہے۔ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کانگریس، سینیٹ اور مختلف ریاستوں کے گورنروں کے انتخابی نتائج پر کروڑوں ڈالر داؤ پر لگائے جا رہے ہیں۔
انتخابی سرگرمیوں کے ساتھ پیش گوئی کی آن لائن منڈیوں میں بھی غیر معمولی دلچسپی دیکھی جا رہی ہے، جہاں لوگ امیدواروں کی کامیابی، سیاسی جماعتوں کی اکثریت اور انتخابی نتائج کے امکانات پر رقم لگا رہے ہیں۔ ان منڈیوں میں کیلشی (Kalshi) نمایاں پلیٹ فارم ہے، جو امریکی کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔ اگرچہ اسے عام طور پر سیاسی سٹے بازی کہا جا رہا ہے، تاہم یہ پلیٹ فارم اپنی سرگرمیوں کو انتخابی نتائج سے منسلک مالیاتی معاہدوں کی خرید و فروخت قرار دیتا ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کیلشی کی مختلف انتخابی منڈیوں میں گزشتہ 30 روز کے دوران تقریباً 45 کروڑ 42 لاکھ ڈالر کی سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں، جبکہ صرف 31 اکتوبر کو تقریباً 3 کروڑ 83 لاکھ ڈالر کے معاہدوں کا لین دین ہوا۔ ان اعداد میں دیگر انتخابی منڈیاں بھی شامل ہیں، اس لیے انہیں صرف امریکی وسط مدتی انتخابات پر لگائی گئی رقم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
امریکا میں ان انتخابات کے دوران ایوانِ نمائندگان کی 435، سینیٹ کی 35 اور 36 ریاستوں میں گورنروں کی نشستوں پر مقابلے ہوں گے۔ کئی ریاستوں میں کانٹے دار مقابلوں کے باعث روایتی انتخابی جائزوں کے ساتھ ساتھ پیش گوئی کی منڈیوں میں بھی بھاری سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
امریکی ریاست ٹیکساس میں بم بنانے کا دعویٰ کرنے والے افغان شہری کو گرفتار کر لیا گیا
کیلشی پر ایوانِ نمائندگان کے کنٹرول سے متعلق منڈی میں تقریباً 17 کروڑ 76 لاکھ ڈالر کے معاہدوں کا لین دین ہوا، جہاں ڈیموکریٹس کے ایوان کا کنٹرول حاصل کرنے کے امکانات 93 فیصد جبکہ ری پبلکنز کے امکانات 7 فیصد ظاہر کیے گئے۔ اسی طرح سینیٹ کے کنٹرول سے متعلق منڈی میں تقریباً 13 کروڑ 39 لاکھ ڈالر کا لین دین ریکارڈ کیا گیا، جہاں ڈیموکریٹس کے امکانات 72 فیصد اور ری پبلکنز کے 28 فیصد بتائے گئے۔
امریکی ریاست ٹیکساس کی سینیٹ نشست بھی سٹے بازوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹیلاریکو اور ری پبلکن امیدوار کین پیکسٹن کے درمیان مقابلے پر تقریباً 6 کروڑ 85 لاکھ ڈالر کے معاہدوں کا لین دین ہوا۔ کیلشی کے ایک جائزے میں ٹیلاریکو کی کامیابی کے امکانات 69 فیصد جبکہ پیکسٹن کے 31 فیصد ظاہر کیے گئے۔
ٹیکساس کے گورنر کے انتخاب میں بھی دلچسپ صورتحال سامنے آئی ہے، جہاں ری پبلکن گورنر گریگ ایبٹ اور ڈیموکریٹک امیدوار جینا ہینوہوزا کے درمیان مقابلے میں ایبٹ کی کامیابی کے امکانات 66 فیصد جبکہ ان کی حریف کے 34 فیصد بتائے گئے۔
دوسری جانب ریاست مین میں ڈیموکریٹک امیدوار ٹرائے جیکسن اور ری پبلکن سینیٹر سوزن کولنز کے درمیان مقابلے پر تقریباً ایک کروڑ 65 لاکھ ڈالر کے معاہدوں کا لین دین ریکارڈ کیا گیا۔ یہاں جیکسن کی کامیابی کے امکانات 69 فیصد جبکہ کولنز کے 31 فیصد ظاہر کیے گئے۔
مشی گن، اوہائیو، آئیووا اور کنساس کی سینیٹ نشستوں پر بھی پیش گوئی کی منڈیوں میں خاصی سرگرمی جاری ہے۔ اسی طرح گورنروں کے انتخابات میں اوہائیو، فلوریڈا، جارجیا اور نیواڈا سمیت مختلف ریاستوں کے نتائج پر بھی بھاری رقوم کے معاہدے کیے جا رہے ہیں۔
کیلشی پر انتخابی نتائج پر رقم کیسے لگائی جاتی ہے؟
کیلشی پر صارفین کسی انتخابی نتیجے کے حق یا مخالفت میں معاہدے خریدتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی امیدوار کی کامیابی کا معاہدہ 70 سینٹ میں خریدا جائے اور وہ امیدوار کامیاب ہو جائے تو معاہدے کی مالیت ایک ڈالر ہو جاتی ہے۔ اس طرح خریدار کو قیمت اور فیس منہا کرنے کے بعد منافع حاصل ہوتا ہے، تاہم امیدوار کی شکست کی صورت میں معاہدے کی مالیت صفر ہو جاتی ہے اور لگائی گئی رقم ضائع ہو سکتی ہے۔
انتخابی مہم، نئے عوامی جائزوں اور سیاسی پیش رفت کے ساتھ ان معاہدوں کی قیمتیں بھی تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ تاہم کسی امیدوار کی کامیابی کے 70 فیصد امکانات ظاہر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے 70 فیصد ووٹ ملیں گے، بلکہ یہ مخصوص وقت میں منڈی کے شرکا کی توقعات اور لین دین سے سامنے آنے والا اندازہ ہوتا ہے۔
امریکی سیاست میں پیش گوئی کی ان منڈیوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے نئی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ منڈیاں مختلف معلومات اور سیاسی توقعات کو یکجا کرکے انتخابی صورتحال کا ایک اضافی اشارہ فراہم کرتی ہیں، جبکہ ناقدین کے نزدیک اس رجحان سے سیاسی عمل پر مالی مفادات کا اثر بڑھنے اور جمہوری عمل کو نفع و نقصان کے کھیل میں تبدیل ہونے کا خدشہ ہے۔
یوں امریکا کے وسط مدتی انتخابات اب صرف امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کی کامیابی یا ناکامی کا معاملہ نہیں رہے بلکہ ان کے نتائج پر رقم لگانے والے افراد کے لیے بھی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ ایک طرف امیدوار ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تو دوسری جانب پیش گوئی کی منڈیوں میں سرمایہ لگانے والوں کی نظریں بھی انتخابی نتائج پر جمی ہوئی ہیں۔











