منگل,  13 اکتوبر 2026ء
حرمین شریفین کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، پاک سعودی یکجہتی کونسل
اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاک سعودی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ پریس کانفرنس میں پاکستان کی مذہبی قیادت نے عمرہ زائرین پر حوثیوں کے مبینہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ حرمین شریفین مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس مقامات ہیں اور ان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کی میزبانی میں ہونے والی پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری، جمعیت علمائے پاکستان کے نائب صدر صاحبزادہ شاہ اویس نورانی، اہل سنت والجماعت کے سرپرست مولانا محمد احمد لدھیانوی، پاک سعودی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر علی محمد ابو تراب، سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان خلیل، رابطہ سیکرٹری مولانا عتیق الرحمان شاہ اور ترجمان پروفیسر سجاد قمر سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے قابل مذمت ہیں، بالخصوص عمرہ زائرین کو نشانہ بنانے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تمام مسلمانوں کے لیے عقیدت و احترام کا مرکز ہیں اور ان کی سلامتی پوری امت مسلمہ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور پاکستانی قوم سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں اور مقدس مقامات کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی کارروائیوں کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے سعودی عرب کے حوالے سے حکومت پاکستان کے مؤقف کو سراہتے ہوئے اس کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔

ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس کے ملزم کو سزائے موت سنادی گئی، 24 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ احرام کی حالت میں اللہ کے مہمانوں کو شہید کرنا کسی طور قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی حدود میں جہاں معمولی جاندار کو نقصان پہنچانے سے بھی منع کیا گیا ہے، وہاں ضیوف الرحمن کو نشانہ بنانا انتہائی سنگین ظلم ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہے اور اس کے دفاع کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق ایسے حملے امت مسلمہ میں اشتعال پیدا کرنے کی کوشش ہیں، جبکہ حکومت اور پاکستانی عوام حرمین شریفین کے تحفظ کے معاملے پر متحد ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی جانب سے سعودی عرب کے حوالے سے اختیار کیے گئے مؤقف کی بھی حمایت کی۔

مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ سعودی عرب کے معاملے پر حکومت پاکستان اور عوام کا ایک پیج پر ہونا خوش آئند ہے۔ سعودی عرب محض ایک ملک نہیں بلکہ مسلمانوں کی عقیدتوں کا مرکز ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلم ممالک کو سعودی عرب کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا ہونا چاہیے۔

صاحبزادہ شاہ اویس نورانی نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب بظاہر دو الگ ممالک ہیں، لیکن دونوں کے درمیان ایمان کا مضبوط رشتہ قائم ہے۔ انہوں نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ اور سعودی عرب کو اسلام کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیت اللہ اور روضۂ رسول ﷺ کی حرمت اور سلامتی پوری امت مسلمہ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

اہل سنت والجماعت کے سرپرست مولانا محمد احمد لدھیانوی نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، مذہبی اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سعودی عرب کو افرادی قوت کی ضرورت پیش آئی تو پاکستانی قوم حرمین شریفین کے دفاع کے لیے حاضر ہوگی۔

مولانا محمد احمد لدھیانوی نے حوثیوں کی کارروائیوں کے پس منظر میں علاقائی قوتوں کے کردار کو بھی نظرانداز نہ کرنے پر زور دیا اور پاکستانی حکمرانوں کو اس معاملے میں محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 22 اکتوبر کو اسلام آباد کے علاقے آبپارہ میں ایک بڑا اجتماع منعقد کیا جائے گا، جس میں حوثیوں کی مذمت اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔

مولانا فضل الرحمان خلیل نے مقدس مقامات پر حملوں کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات محض دو حکومتوں کے درمیان روابط تک محدود نہیں بلکہ تاریخی، ریاستی اور مذہبی بنیادوں پر استوار ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستانی عوام سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے اپنی حمایت جاری رکھیں گے۔

مولانا فضل الرحمان خلیل نے کہا کہ سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملے کے مترادف ہے اور سعودی عرب کی سلامتی کا معاملہ محض ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ سے متعلق ہے۔

پاک سعودی یکجہتی کونسل کے ترجمان پروفیسر سجاد قمر نے کہا کہ کونسل پاکستان کے علمائے کرام اور عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔ انہوں نے عمرہ زائرین کو نشانہ بنانے کی مبینہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم حرمین شریفین کے تحفظ اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کے معاملے پر متحد ہے۔

پریس کانفرنس کے شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے عوام سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے اپنی حمایت جاری رکھیں گے اور حرمین شریفین کی حرمت کے خلاف کسی بھی کارروائی کی مذمت کرتے رہیں گے۔

مزید خبریں