اسلام آباد(محب) خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی موجودہ صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے صوبے کے عوام کے جمہوری مینڈیٹ اور آئینی حقوق کے خلاف اقدام قرار دیا گیا۔ پی ٹی آئی کی دونوں کمیٹیوں نے واضح کیا کہ صوبے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آئندہ کے اقدامات پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔
اجلاس میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات، ضم شدہ قبائلی اضلاع کے حقوق اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں جاری پُرامن لانگ مارچ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق پی ٹی آئی نے دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات میں منتخب نمائندوں اور صوبے کی سیاسی جماعتوں سے مشاورت پر زور دیا۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری، وزیراعظم ہاؤس سے سمری ایوانِ صدر روانہ!
سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف پارٹی کے اندر اختلافات کی خبروں کو مسترد کردیا۔ اعلامیے میں وضاحت کی گئی کہ وزیراعلیٰ پہلے سے طے شدہ مصروفیات کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہوسکے، اس لیے ان کے اور کمیٹیوں کے درمیان اختلافِ رائے کی خبریں درست نہیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں غیر معمولی آئینی یا انتظامی اقدامات کے تناظر میں پارٹی کی آئندہ حکمت عملی مشترکہ مشاورت سے طے کی جائے گی۔ پی ٹی آئی نے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کے لیے جاری پُرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔











