صنعاء(روشن پاکستان نیوز) یمن کے خلاف حملوں اور طویل عرصے سے جاری جنگ کے اثرات سے متعلق ایک جامع رپورٹ میں انسانی جانوں کے ضیاع، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور معاشی نقصانات کے حوالے سے تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فضائی حملوں اور دیگر کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً 60 ہزار یمنی مرد و خواتین جاں بحق یا زخمی ہوئے، جبکہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ناکہ بندی، دائمی بیماریوں اور غذائی قلت کے باعث 14 لاکھ سے زائد شہری جان کی بازی ہار گئے۔
رپورٹ کے مطابق صحت کے شعبے میں 670 سے زائد طبی مراکز اور ایمبولینسز تباہ ہوئیں، جبکہ تقریباً 2 ہزار 900 تعلیمی مراکز، جن میں اسکول، جامعات اور دیگر تعلیمی ادارے شامل ہیں، بھی تباہ ہوئے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 5 ہزار 600 سے زائد بجلی کے نیٹ ورکس اور اسٹیشنز جبکہ تقریباً 2 ہزار 200 مواصلاتی مراکز و تنصیبات تباہ ہوئیں۔
ٹرانسپورٹ اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق 14 بندرگاہیں، 9 ہوائی اڈے اور 4 شہری طیارے تباہ ہوئے۔ اس کے علاوہ 12 ہزار 400 سے زائد آبی تنصیبات اور 8 ہزار سے زائد سڑکیں اور پل بھی تباہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایران کی سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع کے حل کیلئے مدد کی پیشکش
رپورٹ کے مطابق خوراک کے شعبے میں 15 ہزار سے زائد تنصیبات جبکہ زراعت اور مویشیوں سے متعلق 19 ہزار 400 سے زائد تنصیبات تباہ ہوئیں۔ اس کے علاوہ 4 لاکھ 50 ہزار سے زائد مویشی، 43 ہزار سے زائد شہد کی مکھیوں کے چھتے اور 90 اصیل عرب گھوڑے ہلاک ہوئے۔ رپورٹ میں 2 ہزار 960 سے زائد کلسٹر بم حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
معاشی نقصانات کے حوالے سے رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یمن کے تیل کے شعبے کو براہِ راست اور بالواسطہ طور پر 57 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا، جبکہ پیداوار رکنے کے باعث سالانہ تقریباً 9 کروڑ بیرل تیل کی آمدنی سے محرومی کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مذہبی اور تاریخی مقامات بھی متاثر ہوئے، جن میں 1 ہزار 840 سے زائد مساجد، 90 سے زائد قبرستان اور 420 سے زائد آثارِ قدیمہ و تاریخی مقامات شامل ہیں۔ اسی طرح 86 میڈیا اداروں اور نشریاتی مراکز جبکہ 48 عدالتی کمپلیکس اور عدالتوں کی تباہی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملوں کے نتیجے میں یمن میں زندگی کے مختلف شعبوں اور بنیادی ڈھانچے کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا۔











