بدھ,  02  ستمبر 2026ء
امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

برینٹ خام تیل کی قیمت 87 سینٹ یعنی 0.92 فیصد اضافے کے بعد 95.52 ڈالر اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹر میڈیٹ کی قیمت 80 سینٹ یعنی 0.89 فیصد بڑھ کر 91.02 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔

دونوں بینچ مارک تیل کی قیمتوں میں منگل کے روز بھی 4 ڈالر سے زائد کا نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ برینٹ کی قیمت میں 24 جولائی کے بعد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں 23 جولائی کے بعد یہ سب سے بڑا اضافہ ہے۔

اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے مربن خام تیل کی قیمت 7 ڈالر فی بیرل اضافے کے بعد 106 ڈالر ہو گئی ہے۔

پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے، پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں ایک روپے 8 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 343 روپے 87 پیسے ہو گئی۔

اس کے علاوہ ڈیزل کی قیمت میں 51 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اضافے کے بعد ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 370 روپے 92 پیسے ہو گئی۔

صدر ٹرمپ کا وینزویلا کے تیل سے امریکا کے تیل کے ذخائر کو بھرنے کا اعلان

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں جاری فوجی کارروائیوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکا نے ایک بار پھر ایران پر فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے ، جس کے بعد قشم جزیرے اور بندرعباس میں سمیت مختلف شہروں دھماکے سنے گئے ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق قشم جزیرے کے ماسان گاؤں کے قریب 5 اور آبنائے ہرمز کے قریب مزید 4 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ جنوبی بندرگاہی شہر بندرعباس کے مشرق میں بھی دھماکے ہوئے، امریکی فورسز نے جنوب مشرقی ایران میں جیرفت ائیرپورٹ پر بھی حملہ کیا۔

مزید خبریں