تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
کچھ ڈھنگ کی بات سمجھ لو
آج پھر میں کچھ گہری باتیں کہنے آیا ہوں اور وہ یہ کہ جس نے بھی تمہارا دل توڑا ہے، جس نے بھی تمہیں سمجھنے کی بجائے، تمہاری محبتوں، تمہاری قربانیوں کے سامنے اپنی مرضی کو ہی بڑا مانا ہے وہ ایک دن تمہاری کمی کو بہت گہرائی سے محسوس کرے گا
میں جانتا ہوں کہ تم بھی زندگی میں ٹھوکر کھا کر آئے ہو ،
تمہارا بھی دل ٹوٹا ہے بلکہ میں تو کہوں گا کہ ایک بار نہیں ایک سے زیادہ بار تم نے اپنے آپ میں کمی محسوس کی ہے ،
تم نے سوچا ہے کہ تم میں کیا برائی ہے کہ تمہیں سچا پیار نہیں مل سکا؟
تم نے بارہا اپنی اچھائیوں کو بھول کر ،اپنی برائیاں ڈھونڈنے کی، اپنی کمیاں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے
کیونکہ تم دیکھتے ہو کہ تمہارے محبت، تمہاری سچائی، تمہاری نیک نیتی کا اس پر تو بالکل ہی اثر نہیں ہوتا جس پر تم چاہتے ہو کہ اثر ہو۔
ایک بات کا دھیان رکھنا ، میں جو کہنے جا رہا ہوں وہ کسی کو نیچا دکھانے کے لیے نہیں ہے،
یہ باتیں تو تم لوگوں کو اونچا اٹھانے کے لیے ہیں،
تمہیں اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کے لیے ہیں
کیونکہ جو ٹھوکریں تم زندگی میں کھا چکے ہو اور جو آگے کھانے والے ہو اس میں کوئی تو ایسا ہو جو تمہیں سمجھا سکے کہ تم نے اپنے پاؤں پر کیسے کھڑے ہونا ہے اور تمہیں بتا سکے کہ کسی کا تمہیں چھوڑ جانا ہمیشہ تمہاری قیمت کم نہیں کرتا، کبھی کبھی تو وہ تمہاری قدروقیمت کو بڑھا دیتا ہے۔ کیونکہ کچھ لوگوں کا تمہاری زندگی سے نکل جانا ہی بہتر ہے کب تک تم کسی کو زبردستی اپنے ساتھ بٹھا سکتے ہو؟
کئی بار شر میں سے بھی خیر نکل آیا کرتا ہے۔
تم جانتے ہو انسان کی سب سے بڑی بھول یہ ہے کہ جسے وہ بہت زیادہ پیار دیتا ہے، جس کے لئے بہت زیادہ قربانیاں دیتا ہے، اس کو اپنی زندگی کی پہچان سے جوڑ دیتا ہے
اور پھر جیسا کہ ہمیشہ ہوتا ہے اور ہر شخص کے ساتھ زندگی میں کم از کم دو بار تو ایسا ہوتا ہی ہے کہ جس کو اس نے چاہا ہے وہی شخص اس سے دور ہو جاتا ہے۔
پھر تمہیں لگتا ہے کہ جیسے تم پر آسمان ٹوٹ پڑا ہو، نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے ،
آسمان تو کبھی بھی نہیں ٹوٹتا بس ٹوٹتی ہیں تمہاری امیدیں۔ وہ امیدیں جو تم نے اس سے لگا رکھی تھیں کیونکہ تم نے اسے اپنی زندگی کا مرکز بنا لیا تھا اور جب مرکز ہلتا ہے تو زلزلے تو آتے ہی ہیں
اور یہی وہ مقام ہے،
یہی وہ حالات ہیں جہاں سے تمہاری آنے والی زندگی کا فیصلہ ہوتا ہے،
جہاں پہ یا تو تم خود کو کھو دیتے ہو یا پھر خود کو پا لو گے۔
میں تو کہتا ہوں کہ اگر کبھی ایسے موقع پہ رونا پڑے تو رو لو۔
اپنے آنسوؤں کو اپنی شرم مت سمجھو،
انسو کمزوری نہیں ہوتے ،آنسو تو وہ الفاظ کی زبان ہیں جو تب نکلتے ہیں جب زندگی میں اپنے جذبات کے اظہار کے لیے تمہارے پاس الفاظ کم پڑ جائیں۔
آنسو بہا لو ،مگر اس پہ کبھی گھر مت بنا لینا۔
تمہارا کسی سے بھی محبت کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ کوئی دوسرا تمہارا خدا بن جائے۔
محبت تو یہ ہے کہ تم خوش رہو، ہواؤں میں اڑؤ، بادلوں کی سیر کرو۔
اگر پیار سے تمہارے دل کو تکلیف پہنچتی ہے،
تم دکھی ہوتے ہو ،
خوفزدہ ہوتے ہو ،
افسردہ رہتے ہو اپنے ان خیالوں سے کہ وہ تم سے جھوٹ نہ جائے تو معاف کرنا تم ٹھیک جگہ محبت نہیں کر رہے۔
محبت تو یہ ہے کہ تم کھلو اور وہ بھی تمہارے ساتھ کھلے،
تم سے خوشبو آئے اور وہ بھی مہکے
لیکن ہم لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دوسروں سے پیار کم کرتے ہیں اسے قیدی زیادہ بنا لیتے ہیں اور جب وہ رہا ہونا چاہتا ہے تو پھر ہم چیختے ہیں،چلاتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ظلم ہوا، ہمیں دھوکہ دیا گیا۔
نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ زندگی نے تمہیں یہ سکھایا ہے کہ جسے تم نے پکڑ رکھا تھا وہ تمہارے ساتھ پیار میں نہیں تھا۔
وہ تمہارے دل کا حال تو نہیں جانتا کہ تم اس کے لیے دل میں کتنی چاہت رکھتے تھے۔
اس شبیہ کو جو تم نے بنا رکھی تھی اسے حاصل کرنے کے لیے اور اسے ہمیشہ کے لیے قابو رکھنے کے لئے، اس نے تو صرف وہ دیکھی تھی، تمہارے دل کا حال تو نہیں جانا تھا ۔
اب تم سنبھل جاؤ ،جب تم سنبھل جاؤ گے اور ایک چٹان کی مانند کھڑے ہو گئے
تب اس کو احساس ہوگا
کہ اس نے کیا کھو دیا۔











