جمعرات,  06  اگست 2026ء
پیکاایکٹ صحافت کاقتل
پیکاایکٹ صحافت کاقتل

دوحرف/رشید ملک

اندھیرے کا دیوتا انسانوں کو گمراہیوں اور جہالتوں کے گہرے کنوؤں میں مبحوسیت کیلئے تدبیر کر چکا صحیفوں کے نزول کو بے حیا کرنے کیلئے لکھنے پڑھنے اور بولنے، جاننے کی بنیادی فطری نعمت پر قدغن کا عذاب اتار دیا گیا۔ عذاب کیا ہے بے حسی ہے طاقت کا نشہ ہے جو اقتدار کے گھوڑے کو زیادہ سے زیادہ منہ زور کرنے کی خو ہی تو ہے۔ زمان مغل کے ساتھ تین دہائیوں سے بھائیوں جیسا تعلق ہے اور اعزاز سید تو ایسا شریر اور پھرتیلا مستعد مگر مستند دوست ہے جس کے ساتھ اے پی پی میں سرکاری صحافتی ذمہ داریوں راہداریوں عنانیت کی غلام گردشوں کی بہت خاک چھانی۔یہ حوالہ تمہیدی نہیں تجدیدی ہے۔ دونوں اہل صحافت کے زور قلم کا کچھ چشم دید شاہد ہونے کے ناطے دو حرفوں میں ذکر اس لیئے کرنے پر مجبور ہوں کہ ایک تو ان سے ذاتی رشتہ ہے دوسرے ان دونوں کو ان دنوں اندھیروں کے دیوتا کی خفگی کا سامنا ہے جرم تو یہی ہے کہ انہوں نے لکھا بھی اور بولا بھی اور پھر رعایا کو جاننے کے حق تک رسائی بھی دی۔ یی جرم ضعیف نہ تو پہلی بار سرزد ہورہا ہے اور نہ ہی مرتکبین کوئی پہلے گنہگار ہیں۔ ازل سے ابد تک سانپ سیڑھی کا دور چلتا رہے گا۔ ملک کے طول و عرض میں بے شمار اہل قلم و اہل صحافت اندھیروں کے دیوتا کی سلاسلیت کا شکار ہوئے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ میرا چونکنے کا باعث محض اس فیڈرل یونین اف جرنلسٹ کے صدر محترم افضل بٹ اور سیکرٹری ارشد انصاری کی پریس ریلز ہے ،جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے مذکورہ بالا اہلیان قلم کو موصولہ نوٹسز کی مذمت کی گئی ہے۔ایف یو جے کے دونوں لیڈروںکا شکریہ کہ انہوں نے اس سنگین مسئلہ پر لب کشائی کی اور اپنی تشویش کا اظہار کیا، لیکن راقم اس مذمتی بیان پر ایک ادنی صحافی ہونے کے ناطے اپنی حقیر رائے میں یہ ضرود کہے گا کہ پیکا ایکٹ پر نوٹسز کیا آزادئ صحافت کو نکیل ڈالنے کی کوشش کے سوا کچھ اور بھی ہے۔ زمان مغل کا قصور یہ ہے کہ اربوِں روپے کی ٹیکس چوری میں ٹوبیکو مافیاں کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی۔ یہ مافیا اشرافیہ کے مامے، چاچے سسر سالے اور بچے بالکے ہی تو ہیں جن کا ذکر زمان مغل نے اپنی سٹوری میں کیا۔ پھر موٹر وے پولیس، اطلاعات کے ادارے، پیمرا سمیت نصف درجن کے قریب محکموں کے حکام کو طلب کرکے وضاحتیں طلب کی گئی خبر کے جرم پر متعلقہ رپورٹر اور چینل کے مالک محسن بلال عباسی کو اٹھانے گرانے سے لیکر گرفتار کرنے تک کے تمام حربے بروئے کار لانے ک شور بلند کیا گیا اور یہ سب پارلیمنٹ کی ایک قائمہ کمیٹی کی غیر معمولی بیٹھک میں کیا گیا۔ جس کا نتیجہ ہماری طرادری میں تشویش کے ساتھ ساتھ اقوام عالم میں جگ ہنسائی اور سبکی کی صورت میں نکلا اہل اقتدار کو اس زاوے پر سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت شائد محسوس نہ کی جائے مگر اہل تدبیر ہماری صحافتی اقدار کی محافظ تنظیموں کو ضروف سر جوڑنے کی ضرورت ہوگی کیونکہ ہر صحافی اب یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ پیکا ایکٹ صحافت کا قتل ہے۔ میرے آقاؤں کو اگر سنگینی کا ادراک ہو تو اس نکتے پر بیان بازی ،مذمت، حزیمت ،تقدس تحریم، اور پاکیزگی کی فصیلوں کو توڑ کر فضیلت کے قلعوں سے نکل کر اپنے فن اور پیشہ کو بچانے کیلئے جلال الدین خوارزم شاہ کے عزم کے ساتھ تحفظ کی جنگ کیلئے رزم گاہ کے سپرد ہونے کا عہد و ایقان کرنا ہوگا۔ وربہ ہم نے جاہ و جلال کے بلند محل، مسمار ہوتے دیکھے ہیں، شان شوکت کے ساتھ ٹھاٹیں مارتے بے قابو دریا سوکھتے دیکھے ہیں تجلیوں سے تیز سروں کی فصلیں کاٹتی بے نیام و بے رحم تلواروں کو زنگ آلود اور کند ہوتے دیکھا ہے۔ یہ یہ دو حرف نہیں نوحہ ہیں بلکہ نوحہ نہیں اندھیرے ک دیوتا کے دربار میں سکوت کے آسیب میں ایک چیخ ہے ایک صدا ہے!۔۔۔۔۔ اگر کوئی سن سکے،اگر کوئی محسوس کر سکے۔ ورنہ اہل صحافت کیلئے پیشگی انا للہ و انا علیہ راجعون۔ بہت کچھ کہنے کو اور لکھنے کو باقی ہے جو پھر کبھی سہی یار زندہ صحبت باقی۔

مزید خبریں