جمعرات,  06  اگست 2026ء
14 اگست آرہی ہے… کیا اس بار ہم صرف پاکستان بن سکتے ہیں؟
میں اور میرا دوست

آج پھر میں اور میرا دوست ایک پارک کی بنچ پر بیٹھے تھے۔
مانچسٹر میں آج بارش کے بعد ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی، مگر دل عجیب بوجھل تھا۔

اچانک اس نے پوچھا:

“ندیم! بتاؤ، 14 اگست کس کی ہے؟”

میں نے مسکرا کر جواب دیا:

“پاکستان کی۔”

وہ خاموش رہا، پھر آہستہ سے بولا:

“پھر ہم اسے ہر سال اپنی اپنی جماعت، اپنے اپنے نظریے اور اپنی اپنی نفرتوں میں کیوں تقسیم کر دیتے ہیں؟”

میرے پاس اس سوال کا کوئی آسان جواب نہیں تھا۔

چند دن بعد پورا ملک سبز ہلالی پرچموں سے سج جائے گا۔

بچے جھنڈے خریدیں گے۔

موٹر سائیکلوں پر سبز لباس پہن کر نوجوان نعرے لگائیں گے۔

گلیاں روشن ہوں گی۔

لیکن میرے دل میں ایک ہی سوال گونجتا رہے گا…

کیا ہمارے دل بھی سبز ہوں گے یا پھر پہلے کی طرح سیاسی نفرتوں سے بھرے رہیں گے؟

ہم پنجابی ہیں، سندھی ہیں، بلوچ ہیں، پشتون ہیں، سرائیکی ہیں، کشمیری ہیں، گلگت بلتستان کے رہنے والے ہیں…

لیکن اس سب سے پہلے…

ہم پاکستانی ہیں۔

ہماری سیاسی سوچ مختلف ہو سکتی ہے۔

کوئی پاکستان تحریک انصاف کو پسند کرتا ہے۔

کوئی مسلم لیگ (ن) پر یقین رکھتا ہے۔

کوئی پاکستان پیپلز پارٹی کا کارکن ہے۔

کوئی جماعت اسلامی، جے یو آئی، ایم کیو ایم، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان یا سندھ کی قوم پرست جماعتوں، یا کسی اور سیاسی جماعت کے نظریے سے اتفاق کرتا ہے۔

یہ سب جمہوریت کا حسن ہے۔

مگر…

اگر ایک جھنڈے کی محبت ہمیں دوسرے پاکستانی سے نفرت سکھا دے تو پھر ہمیں اپنے ضمیر سے سوال ضرور کرنا چاہیے۔

میں نے دوست سے کہا:

“ہم نے سیاست کو خدمت سے زیادہ انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔”

وہ بولا:

“اور نقصان صرف عوام کا ہوا ہے۔”

میں نے سر جھکا لیا۔

واقعی…

مہنگائی کسی جماعت کے کارکن سے پوچھ کر گھر میں داخل نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔

بے روزگاری ووٹ یا آپکی سوشل میڈیا پوسٹ دیکھ کر کسی نوجوان کو مایوس نہیں کرتی۔

ہسپتال میں درد کی کوئی سیاسی جماعت نہیں ہوتی۔

اور قبرستان میں دفن ہونے والوں سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ وہ کس پارٹی کے حامی تھے۔

پھر ہم زندہ لوگ ایک دوسرے کو اتنا کیوں بانٹ رہے ہیں؟؟؟؟
ہمدردی کیوں نہیں ہمارے دل میں جگہ بنا رہی؟؟؟
آخر دھڑکنے والا دل بھی ہو۔ شعور بھی ہو۔
ہمدردی ہی تو انسانیت کی معراج ہے۔

14 اگست صرف جشن منانے کا دن نہیں۔

یہ اپنے گریبان میں جھانکنے کا دن بھی ہے۔

یہ سوچنے کا دن ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح رح نے ہمیں ایک ایسی ریاست کا خواب دیا تھا جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، اختلاف رائے کا احترام ہو، انصاف طاقتور اور کمزور دونوں کو یکساں ملے، اور پاکستان ہر پاکستانی کا ہو۔

آج اگر ہم واقعی اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہوگا۔

سوشل میڈیا پر گالیاں دینے کے بجائے دلیل دینی ہوگی۔
دلیل کا جواب دلیل سے دیا جائے تو حسن دیکھنے کے قابل ہوتا۔

اختلاف کو دشمنی نہیں بنانا ہوگا۔
جب دشمنی بنتی ہیں تو جانیں جاتی ہیں۔ جب ایک جان جاتی ہے تو گھر کے گھر اجڑے رہتے ہیں۔

اور اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ مخالف سیاسی جماعت کا کارکن بھی اسی وطن کا بیٹا ہے۔
کتنا خوبصورت جملہ وطن کا بیٹا !

میرے دوست کے کام پر نکلنے کا وقت ہوا وہ کہتا
مجھے پتہ آپ کالم لکھو گے۔۔
ایک وعدہ کا بھی لکھنا۔ میں نے کہا کونسا وعدہ۔

کہنے لگا
اس بار 14 اگست پر ایک وعدہ کرتے ہیں۔”

وہ بولا:

“اس بار ہم صرف اپنے پسندیدہ لیڈر کا نہیں، پاکستان کا جھنڈا بلند کریں گے۔”

میں خاموش ہوگیا۔

شاید یہی وہ جملہ تھا جس کی آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

آؤ…

اس بار 14 اگست پر صرف آتش بازی نہ کریں۔

اپنے دلوں سے نفرت کی آگ بھی بجھا دیں۔

صرف گھروں پر سبز ہلالی پرچم نہ لگائیں۔

اپنے کردار کو بھی سبز، صاف اور امید سے بھر دیں۔

یاد رکھیں…

جماعتیں بدلتی رہتی ہیں۔

حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔

اقتدار کسی کے پاس ہمیشہ نہیں رہتا۔

لیکن پاکستان ہمیشہ رہنا چاہیے۔

اور اگر پاکستان سلامت، متحد اور مضبوط رہا…

تو ہم سب رہیں گے۔
پاکستان زندہ باد۔

تحریر/ ندیم طاہر
#nadeemtahir

مزید خبریں