اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)پاکستان نے افغانستان میں وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان پاور لائن کی تعمیر کے لیے سرگرمیاوں کی بحالی کا خیرمقدم کیا ہے۔ پاور لائن کا مغربی حمایت یافتہ یہ منصوبہ ایک اعشاریہ 2 بلین ڈالر کی مالیت کا ہے۔ خیال رہے یہ منصوبہ گزشتہ ایک سال سے تعطل کا شکار تھا۔
کا سا 1000 منصوبہ تاجکستان، کرغیزستان سمیت وسطی ایشیائی ریاستوں میں ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹس کا وسیع نیٹ ورک ہے۔ جس کے ذریعے پاکستان کی طرف سے گرمیوں کے مہینے میں اضافی توانائی افغانستان کو فروخت کرنے کی اجازت دینا ہے۔
گزشتہ ماہ کاسا 1000 کے لیے عالمی بنک نے توانائی کے اس منصوبے کو جو افغانستان میں پیداشدہ افراتفری کے ماحول کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوا تھا کو دوبارہ شروع کرنے کی منظوری دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کی تعمیر تین ممالک میں مکمل ہو چکی ہے اور ان ممالک کی طرف سے درخواست کی گئی تھی کہ افغانستان میں سرگرمایاں دوبارہ شروع کی جائیں۔
پاکستان کی وزارت توانائی نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے ‘حکومت عالمی بنک کے اس سلسلے میں حالیہ اعلان کا خیرمقدم کرتی ہے۔ یہ افغانستان کی عوام کی حمایت میں ہونے والے دیگر اقدامات کے علاوہ ہے۔
مزیدپڑھیں:راولپنڈی،انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیخلاف پی ٹی آئی کا احتجاج
وزارت توانائی نے مزید کہا ‘کرغیزستان اور تاجکستان کے ساتھ ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخظ کیے گئے ہیں۔تاکہ کاسا 1000 کو بروقت شروع کرنے پر عالمی بنک کا شکریہ ادا کیا جا سکے۔’
وسطی ایشیائی ممالک کے لیے یہ منصوبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ وہ ممالک جن کے پاس گرمیوں میں زیادہ بجلی ہوتی ہے لیکن سردیوں میں قلت کا شکار ہو جاتی ہے۔ سردیوں میں بجلی کی اس قلت کو دور کرنے کے لیے ان ممالک کو پڑوسی ممالک سے ایندھن یا بجلی خریدنا ہوتی ہے۔











