منگل,  21 جولائی 2026ء
امریکا کے ساتھ سفارتی پیغام رسانی جاری ہے، زمینی حملے کے منتظر ہیں: ایران

تہران(روشن پاکستان نیوز) ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے جنوبی ایران کے جزیرہ خارگ پر قبضہ کرنے کی کوئی کوشش کی تو اسے شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ایران میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو کسی بھی امریکی زمینی حملے کی صورت میں امریکی افواج کے استقبال کے لیے منٹوں کا حساب رکھ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ بوشہر صوبے میں ایرانی ساحل سے 55 کلومیٹر دور واقع جزیرہ خارگ ایران کی تیل کی صنعت کا مرکزی دل سمجھا جاتا ہے، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کے دوران اس جزیرے پر قبضہ کرنے کی بارہا دھمکیاں دے چکے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی اور لڑائی کے باوجود ایرانی ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ سفارتی پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔

اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ ”ہمیں ثالثوں کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے۔ تفصیلات میں جائے بغیر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں پیغامات موصول ہوئے ہیں، اور بنیادی بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں سفارتی نظام متحرک رہا ہے اور مخصوص ثالثوں کے ذریعے ہم تک مختلف تجاویز پہنچائی گئی ہیں“۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے خطے میں جاری حالیہ تناؤ اور جنگی صورتحال کی تمام تر ذمہ داری امریکا پر عائد کی۔

امریکیوں کو مارنے کے رد عمل میں ٹرمپ کی ہدایت پر نویں رات ایران پر شدید حملہ

خطے کے دیگر ممالک کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران اپنے پڑوسیوں کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں رکھنا چاہتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ”ہم نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ہماری علاقائی ممالک سے کوئی دشمنی نہیں ہے، لیکن ہم ان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں گے اور اپنی سرزمین سے ایران پر حملوں کی اجازت نہیں دیں گے“۔

انہوں نے مزید کہا کہ ”جب تک یہ مظالم جاری رہیں گے، ہماری مسلح افواج ان کا بھرپور جواب دیتی رہیں گی“۔

امریکا کے ساتھ ہونے والے عارضی معاہدے کی پاسداری پر بات کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔

اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ”سمجھوتے کا متن ایک مختصر تحریر ہے جو 14 شقوں پر مشتمل ہے“۔

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم نے شروع ہی سے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے نظام کو سنبھالنے کی ذمہ داری ایران کی ہے اور اس معاملے کو عمان کے ساتھ مشاورت اور علاقائی ممالک کے ساتھ بات چیت کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا“۔

ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کا متن مکمل طور پر واضح ہے اور امریکا کے پاس اس معاہدے کو توڑنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

مزید خبریں