اسلام آباد(سعد عباسی) اسلام آباد کے علاقے بلال ٹاؤن (کھنہ ڈاک) سے لاپتہ ہونے والے حفظِ قرآن کے طالب علم محمد طیب کو پولیس نے کامیاب کارروائی کے بعد خیبر پختونخوا کے ضلع اپر دیر سے بحفاظت بازیاب کروا لیا۔
تفصیلات کے مطابق شانو از خان ولد بنارس خان نے تھانہ کھنہ میں درخواست دی تھی کہ ان کا بیٹا محمد طیب، جو اختر العلوم مدرسہ (نزد TM سی این جی) میں حفظِ قرآن کر رہا تھا، 5 جولائی 2026 کو اچانک مدرسے سے غائب ہو گیا۔ اہلخانہ کی جانب سے تلاش کے باوجود کوئی سراغ نہ ملنے پر اغوا کا خدشہ ظاہر کیا گیا، جس پر تھانہ کھنہ پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 365 کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
راولپنڈی پولیس کی مختلف کارروائیاں، قتل، ڈکیتی، چوری اور اشتہاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن
ایس ایچ او کھنہ شاہد زمان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اے ایس آئی ظفر مہدی اور دیگر اہلکاروں پر مشتمل خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی۔ پولیس ٹیم نے جدید سائنسی طریقوں، تکنیکی ذرائع اور انسانی معلومات کی مدد سے تحقیقات کیں، جس کے نتیجے میں بچے کی موجودگی کا سراغ لگا کر اپر دیر میں کارروائی کی گئی۔
کارروائی کے دوران محمد طیب کو بحفاظت بازیاب کروا کر قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد والدین کے حوالے کر دیا گیا۔ بچے کی واپسی پر اہلخانہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس، بالخصوص ایس ایچ او شاہد زمان، اے ایس آئی ظفر مہدی اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔











