اتوار,  12 جولائی 2026ء
13 جولائی کشمیر کی تاریخ کا فیصلہ کن باب، شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، مشعال حسین ملک

اسلام آباد (سعد عباسی) پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کی چیئرپرسن اور انسانی حقوق کے امور پر وزیرِ اعظم کی سابق معاونِ خصوصی مشعال حسین ملک نے 13 جولائی 1931 کے شہدائے کشمیر اور جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خود ارادیت کی جدوجہد میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام شہداء کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا ہے

یومِ شہدائے کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں مشعال حسین ملک نے کہا کہ 13 جولائی کشمیر کی تاریخ کا ایک ایسا فیصلہ کن باب ہے جو غیر معمولی جرات، ایمان اور لازوال قربانی کی علامت ہے۔1931 میں سری نگر سینٹرل جیل کے باہر ڈوگرہ فورسز کی فائرنگ کے باوجود اذان مکمل کرتے ہوئے 22 نہتے کشمیریوں نے یکے بعد دیگرے شہادت کا رتبہ پایا۔ ان شہداء کی قربانی نے ایک ایسی تحریک کو جنم دیا جو آج بھی کشمیریوں کی نسلوں کو متاثر کر رہی ہے اور انصاف و وقار کے لیے پرامن جدوجہد کرنے والے ہر کشمیری کے دل میں زندہ ہے

مشعال حسین ملک نے اس بات پر زور دیا کہ دہائیوں پر محیط جبر، من مانی گرفتاریوں، شہری آزادیوں پر پابندیوں اور کشمیری سیاسی قیادت کی مسلسل قید کے باوجود کشمیری عوام کا عزم غیر متزلزل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈوگرہ دورِ حکومت سے لے کر آج تک دی جانے والی قربانیوں کو تاریخ سے مٹایا نہیں جا سکتا۔

انہوں نے اقوامِ متحدہ، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ:جموں و کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر احتساب کا عمل شروع کریں۔جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے جموں و کشمیر تنازعے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کروانے کے لیے کوششیں تیز کریں

مشعال حسین ملک نے عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا اور وہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کی آواز کو پرامن، جمہوری، قانونی اور سفارتی ذرائع سے اس وقت تک بلند کرتی رہیں گی جب تک کشمیری اپنا حقِ خود ارادیت حاصل نہیں کر لیتے

مزید خبریں