انسدادِ منشیات کے عالمی دن کے موقع پر ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکوٹکس فورس کا پیغام 
اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) 26 جون 2026ء،انسدادِ منشیات اور غیر قانونی سمگلنگ کے خلاف عالمی دن ہمیں اس امر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ منشیات کا عالمی مسئلہ صحتِ عامہ، سماجی استحکام، معاشی ترقی اور انسانی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بنا ہوا ہے۔ اس اہم دن کے موقع پر ہم اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مشترکہ ذمہ داری، مؤثر شراکت داری اور مسلسل اقدامات کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔ رواں سال کا بین الاقوامی موضوع ”دیرینہ مسائل، نئے چیلنجز اور منشیات سے پاک نسل کی تشکیل کے لیے اختراعی اقدامات“ اس مسئلے کی بدلتی ہوئی نوعیت اور مربوط و جدید حکمتِ عملیوں کی ضرورت کو واضح کرتا ہے۔پاکستان منشیات کے ہر قسم کے غیر قانونی استعمال اور سمگلنگ کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ جہاں ایک جانب روایتی منشیات بدستور خطرہ بنی ہوئی ہیں، وہیں مصنوعی منشیات، بالخصوص میتھ ایمفیٹامین (آئس)، کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ ایک نیا اور تشویشناک چیلنج ہے۔ یہ منشیات انتہائی نشہ آور، آسانی سے قابلِ رسائی اور جسمانی و ذہنی صحت پر تباہ کن اثرات کی حامل ہیں۔ ان کا بڑھتا ہوا رجحان فوری اور مؤثر قومی ردِعمل کا متقاضی ہے۔بطور پاکستان کی مرکزی انسدادِ منشیات فورس، اے این ایف رسد میں کمی، طلب میں کمی، علاج وبحالی اور بین الاقوامی تعاون پر مبنی جامع حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ ملک بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے منشیات کی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کو توڑا جا رہا ہے، سرحدی راستوں، بحری حدود، ہوائی اڈوں اور دیگر آمد و رفت کے مقامات پر مؤثر کارروائیاں جاری ہیں۔ یہ اقدامات جدید فرانزک صلاحیتوں، مالیاتی تحقیقات اور قومی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون سے مزید مؤثر بنائے جا رہے ہیں۔ساتھ ہی اے این ایف اس امر کا ادراک رکھتی ہے کہ صرف قانون نافذ کرنا اس مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ اسی لیے آگاہی مہمات، انسدادی تعلیم، علاج و بحالی کی سہولیات اور کمیونٹی سطح پر اقدامات کو مزید وسعت دی جا رہی ہے تاکہ منشیات کے استعمال کی بنیادی وجوہات کو کم کیا جا سکے اور معاشرتی مزاحمت کو مضبوط بنایا جا سکے۔ تعلیمی اداروں اور معاشرے میں خصوصی آگاہی مہمات جاری ہیں تاکہ خطرات سے متعلق شعور اجاگر کیا جا سکے اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دیا جا سکے۔ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال اس مسئلے میں ایک نئی جہت کا اضافہ کر رہا ہے، جہاں منفی مواد اور غیر قانونی سرگرمیاں تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔ اس تناظر میں والدین، اساتذہ، اداروں اور معاشرے کو زیادہ چوکنا رہنے اور ذمہ دارانہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔منشیات کے خلاف جدوجہد محض کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک مشترکہ قومی فریضہ ہے۔ والدین، اساتذہ، مذہبی رہنما، ذرائع ابلاغ، سول سوسائٹی اور ریاستی اداروں کو مل کر آگاہی، انسداد اور مثبت سماجی اقدار کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ آئندہ نسلوں کو اس خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔اس موقع پر میں انسدادِ منشیات فورس کے اُن شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے وطنِ عزیز کی خدمت میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی جرات، قربانی اور فرض شناسی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ میں اے این ایف کے تمام افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ خدمات کو بھی سراہتا ہوں جو اس جدوجہد میں ہر روز پیش پیش ہیں۔آئیے ہم سب مل کر اس عزم کی تجدید کریں کہ ایک محفوظ، صحت مند اور منشیات سے پاک پاکستان کے قیام کے لیے متحد ہو کر کام کریں گے۔ ”ایک قوم، ایک منزل — منشیات سے پاک پاکستان“ کے وژن کے تحت ہم مل کر اس چیلنج پر قابو پا سکتے ہیں۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین

مزید خبریں