لاہور (روشن پاکستان نیوز ): لاہور کے علاقے گڑھی شاہو میں ایک نوجوان نے کرپٹو ٹریڈنگ میں والد کے لاکھوں روپے ڈبو دیے۔
لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ گڑھی شاہو میں ایک نوجوان نے کرپٹو ٹریڈنگ میں اناڑی پن کی وجہ سے بڑا نقصان اٹھایا، جس کے بعد والد کے خوف سے اس نے 15 پر جھوٹی کال کر کے ڈکیتی کا ڈراما رچایا۔
ایک مرغی کی قیمت صرف ’’17 لاکھ‘‘ اس کا انڈا بھی سونے کے بھاؤ
پولیس کے مطابق ملزم نے 15 پر گھبرائی ہوئی آواز میں کال کر کے دعویٰ کیا کہ موٹر سائیکل سوار 2 مسلح ڈاکوؤں نے گن پوائنٹ پر اس سے نقدی، اے ٹی ایم کارڈ اور موبائل فون چھین لیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم کا دعویٰ تھا کہ اس سے 11 لاکھ نقدی چھینی گئی ہے، تاہم، کال سنتے ہی لاہور پولیس کی ٹیمیں فوری حرکت میں آئیں، علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی اور سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کھنگالنا شروع کر دیا گیا۔
پولیس نے جب جائے وقوعہ کا جائزہ لیا، اور ملزم سے الگ الگ سوالات کیے گئے تو اس کے بیانات میں تضاد سامنے آ گیا، واردات کا کوئی عینی شاہد نہیں ملا، نہ کیمروں سے کوئی مشکوک سرگرمی مل سکی۔
گڑھی شاہو پولیس کے مطابق ملزم نے آخرکار سخت تفتیش کے بعد اعتراف کر لیا کہ کوئی ڈکیتی نہیں ہوئی بلکہ معاملہ ڈیجیٹل کرنسی ٹریڈنگ میں نقصان کا تھا، ملزم نے پولیس کو بیان دیا کہ کرپٹو ٹریڈنگ میں نقصان پر اس نے والد کے ڈر سے ڈکیتی کا ڈراما رچایا۔
جس کے بعد پولیس نے جھوٹی اطلاع دینے، سرکاری وسائل کا غلط استعمال کرنے پر ملزم کو گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
واضح رہے کہ حکام کا کہنا ہے کہ 15 ایمرجنسی ہیلپ لائن ہے، اس پر جھوٹی کال کرنا سنگین جرم ہے جس سے اصل ضرورت مندوں کی مدد میں تاخیر ہوتی ہے اور پولیس کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔











