خواتین کو معاشی دھارے میں لانا فلاحی نہیں بلکہ اقتصادی ضرورت ہے، ثمینہ فاضل

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) وفاقی بجٹ 2026-27 قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے سے قبل اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی بانی صدر ثمینہ فاضل نے حکومت پر زور دیا ہے کہ تاجرخواتین کوقومی معیشت کا اہم اثاثہ سمجھا جائے۔ برسوں سے کیے جانے والے وعدے اور یقین دہانیاں لا حاصل رہی ہیں جس سے ملکی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔انھوں نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ کاروباری شعبہ میں خواتین کی نمائندگی بہت کم ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ملک میں پچاس لاکھ کاروباروں میں خواتین کی ملکیت صرف تقریباً آٹھ فیصد تک محدود ہے۔ وزارتِ خزانہ کو بجٹ کی حتمی منظوری سے قبل اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کرے۔مالی سال 2025-26 میں خواتین پر مرکوز منصوبوں کا حصہ وفاقی ترقیاتی بجٹ کا صرف 0.2 فیصد تھا۔ خواتین کے لیے تعلیم اور صحت کے پروگراموں پر مجموعی اخراجات محض 0.57 فیصد رہے، جبکہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کی صرف 1.3 فیصد رقوم خواتین پر مرکوز اقدامات کے لیے مختص کی گئیں جو افسوسناک ہے۔ہمارے مطالبات میں تاجر خواتین کے لیے رعایتی شرح سود پر قرضہ ، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ اور سمیڈا کے بورڈز میں لازمی نمائندگی، وفاقی خریداری کے معاہدوں میں مخصوص کوٹہ، اور اسلام آباد ویمن مارکیٹ ماڈل کو تمام صوبائی دارالحکومتوں تک توسیع دینا شامل ہے۔ خواتین کو تجارتی وفود میں نمائندگی اور کاروباری مقاصد کے لئے اراضی بھی فراہم کی جائے۔ ثمینہ فاضل کے مطابق مختلف حکومتوں نے یقین دہانیاں تو کرائیں لیکن ان پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔حکومت نے نومبر 2025 میں نیشنل ویمن انٹرپرینیورشپ پالیسی متعارف کرائی تھی جس کا مقصد معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی شرکت بڑھانا تھا۔ تاہم اس پالیسی میں مالی وسائل کی واضح فراہمی اور مؤثر عملدرآمد کے طریقہ کار موجود نہیں۔ایف پی سی سی آئی کی سابق نائب صدر نعیمہ انصاری نے کہا کہ خطے کے دیگر ممالک کی صورتحال بہتر ہے۔ بنگلہ دیش کا جینڈر بجٹ تقریباً 23.7 ارب امریکی ڈالر کے برابر ہے جبکہ وہاں خواتین کی ملکیت والے اٹھائیس لاکھ کاروبار مجموعی ایس ایم ایز کا تقریباً ایک چوتھائی ہیں۔بھارت کا جینڈر بجٹ تقریباً 52.7 ارب امریکی ڈالر ہے جو وفاقی اخراجات کا 9.37 فیصد بنتا ہےجبکہ ایک سال قبل یہ شرح 8.86 فیصد تھی۔ 3 کروڑ 60 لاکھ آبادی والے ملائیشیا نے خواتین اور نوجوانوں کی کاروباری سرگرمیوں کے لیے تقریباً 164 ملین امریکی ڈالر مختص کیے ہیں جبکہ کم آمدنی والی خواتین کے لیے 50 ملین ڈالر اور خواتین کی ملکیت والے چھوٹے کاروباروں کے لیے چار فیصد شرح سود پر 38 ملین ڈالر کا فنڈ بھی قائم کیا گیا ہے۔ثمینہ فاضل نے کہا کہ 2026-27 کے لیے 17.1 کھرب روپے کے وفاقی بجٹ میں شرح نمو کا ہدف 4.1 فیصد اور ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15.267 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے ۔ محدود مالی گنجائش کے باوجود خواتین کے لئے بجٹ مختص کرنا ناگزیر ہے۔ خواتین کی رسمی معیشت میں شمولیت بڑھانا فلاحی اقدام نہیں بلکہ اقتصادی ترقی کے لئے ضروری ہے۔

مزید خبریں