سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
سیو دی ہسبنڈ کمپین
آپ نے بہت سی کیمپینز دیکھی ہوں گی،
سیو دی لائن،
سیو دی ورلڈ لائف،
سیو دی فارسٹ ،
ان کا بڑا چرچہ سنا ہوگا اور ممکن ہے کئی ایک کمپینز میں آپ نے ذاتی طور پر حصہ بھی لیا ہو، واک بھی کی ہو،
بینرز اٹھائے اور نعرے بھی لگائے ہوں
لیکن کیا آپ نے کبھی ایسا پرچار کیا کہ گائے ،بکریوں ،بھیڑوں کو بچاؤ، یا سیو دی فش؟
نہیں نا ،
کیونکہ آپ انہیں کھاتے ہو مزے لے لے کے ،
ان مخلوقات کو ذبح کرتے ہو،
کاٹتے ہو ،مصالحے لگا کے آگ پہ بھون کے کھا جاتے ہو ،اس لیے کبھی انہیں بچانے کا خیال آپ کے دماغ میں نہیں آتا لیکن شیر، جنگلات! جنگلی حیات، جن کا آپ سے کوئی دور کا واسطہ نہیں ،نہ وہ آپ کو کھاتے ہیں نہ آپ انہیں کھا سکتے ہیں پھر بھی آپ ان کی زندگی کے تحفظ کے لیے پاگل ہوئے پھرتے ہیں۔
کیا کبھی آپ نے کسی ایسے جانور کے بارے میں سوچا ہے جو ہر جگہ ہر وقت موجود ہے ،جو گدھے اور گھوڑے سے زیادہ محنت کرتا ہے اور جو جوان ہوتے ہی اپنی ماں، اپنی بہنوں اپنے بیوی بچوں کے لیے قربانی کا بکرا بنتا ہے۔ سب سے پہلی تنخواہ اپنی ماں کے ہاتھ میں رکھتا ہے ۔بہنوں کی شادیوں کے لیے دن رات محنت کر کے پیسے جوڑتا ہے تاکہ انہیں جہیز اور عزت کے ساتھ رخصت کر سکے۔ بسا اوقات اپنی شادی کو معطل کیے رکھتا ہے اور بہنوں کے فرائض سے سبکدوش ہونے اور اپنی جوانی کے گزر جانے کے بعد رشتہ ازدواج میں منسلک ہوتا ہے؟جی ہاں یہ وہ جانور ہے جو شادی کے بندھن میں بندھنے کے بعد نہ اپنے لیے کپڑے بنا پاتا ہے، نہ اپنی پسند کے کھانے کھاتا ہے، نہ دنیا کی سیر کرتا ہے ،بس صرف بیوی، بچے! گھر، معاشی حالات کی دیکھ بھال کی خاطر اپنی جوانی ،اپنا حسن! اپنا شباب ،اپنی صحت وار دیتا ہے اپنے خاندان پر لیکن اس کے بدلے میں پیار کے دو میٹھے بول نہیں بولے جاتے ان لوگوں سے جن کے لیے اس نے اپنی زندگی سرف کر دی۔
دو بول پیار کے ،اس میں کون سا ٹائم لگتا ہے یا کون سی توانائیاں ضائع ہوتی ہیں ؟
آپ نوٹس کیجیے گا کہ آپ اپنی فیملی کو ہر موقع پہ ،ہر فنکشن پہ، ہر تہوار پہ دوسرے شہروں میں لیے پھرتے ہیں، انہیں شادیاں اٹینڈ کرواتے ہیں، انہیں گھماتے ہیں، کھانے کھلاتے ہیں لیکن کسی کے منہ سے کبھی تھینک یو نہیں سنیں گے ۔
اس کے برعکس اگر آپ اپنی ماں کے لیے صرف ایک جوڑا لے جائیں، صرف ایک جوڑا تو اس کی زبان نہیں تھکے گی آپ کو دعائیں دیتے ہوئے۔
آپ اپنی ہمشیرہ کو اپنی گاڑی میں کسی دوسرے شہر کی سیر کروا دیں زندگی میں صرف ایک بار ،وہ تمام عمر اس کا حوالہ دے گی اور آپ کی بہن آپ کو دعائیں دے گی اور دوسری طرف جس کے لیے آپ مر جاتے ہیں محنت کر کر کے وہ تعریف تو کیا الٹا آپ کو ذلیل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ نہیں جانے دیتے۔
طعنے، طنز !آپ نے کیا ہی کیا ہے؟ اس قسم کی باتیں سننا پڑیں گی۔ کیا آپ لوگ اتنے بے حس، بے شرم! لاپرواہ اور خود غرض ہو کہ آپ جنگلی حیات ،جنگلات کو بچانے کے لیے تو نکل کھڑے ہوتے ہیں لیکن کیا کبھی کسی نے سیو دی ہسبینڈ موومنٹ چلائی ؟
کبھی کسی نے سیو دی ہسبینڈ کمپین کی ہے ؟
نہیں کی ہے،
ہسبینڈ ایک مچھلی کی طرح ہے، معصوم ،کیونکہ جب آپ کی فیملی والے کانٹے میں گلاب جامن ڈال کے لٹکاتے ہیں پانی میں تو مچھلی سوچتی ہے کہ یہ تو مجھے بہت پسند ہے اور وہ منہ کھولتی ہے کھانے کے لیے۔
وہ خوراک جس کانٹے میں پروی ہوتی ہے وہ کانٹا مچھلی کے حلق میں پرویا جاتا ہے ،وہ تڑپتی ہے، بہت زیادہ تکلیف میں ا جاتی ہے ، اپنی جان بچانے کے لیے پانی میں اپنا جسم آگے پیچھے گھماتی ہے لیکن یہ فیملی بڑی سموتھلی اس کو اوپر کھینچ لیتی ہے۔
اب مچھلی کو آکسیجن بھی نہیں مل رہی۔
آپ ذرا تصور کریں، مچھلی بن کر سوچیں، جس کو آپ نے پہلے حلق میں کانٹا ڈال کر کھینچا ہے اور پھر اس کے بعد اس کی آکسیجن بھی ختم ہو گئی وہ تڑپ رہی ہے۔ابھی اس کی جان نہیں نکلی لیکن آپ چھری لے کے اس کے جسم سے اس کی کھال اتارنا شروع کر دیتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ ایک ہسبینڈ کی اس مچھلی سے بہتر اور کوئی مثال نہیں ہو سکتی۔
تو اگر کبھی ایسے مظلوم شوہروں کے لیے کوئی موومنٹ چلی، ان کے بچاؤ ،ان کی عزت نفس کی حفاظت اور ان کے ذہنی سکون کی بحالی کے لیے تو اس تحریک کو موثر بنانے کے لیے میں خود کو صف اول میں پیش کروں گا ۔
میں دنیا کے تمام شوہروں سے دلی تعزیت کرتا ہوں اور ان کے غم میں برابر کا شریک ہوں حالانکہ میں خود متاثرین میں شامل نہیں ہوں اور میری زندگی تو ماشاءاللہ بہت اچھی گزر رہی ہے











