جمعرات,  28 مئی 2026ء
نیپال میں ’’جین زی‘‘ کے احتجاج کے پیچھے کون تھا؟ رپورٹ نے ہلچل مچا دی

کھٹمنڈو(روشن پاکستان نیوز): گزشتہ سال نیپال میں جین زی احتجاج سے متعلق قومی انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ نے ہلچل مچا دی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیپال میں گزشتہ سال ستمبر میں جنریشن زی (جین زی) کے احتجاج سے متعلق قومی انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ میں کئ بڑے نام سامنے آنے کے بعد ملک میں سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کی اس رپورٹ میں نیپال میں جین زی احتجاج کے پس پردہ کرداروں سے پردہ اٹھایا گیا ہے اور ملک میں بد امنی کا ذمہ دار حکمرانوں، فوج، سیکیورٹی فورسز، خفیہ اداروں کے افراد کو قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں حکمران جماعت ’راشٹریہ سوتنتر پارٹی‘ (آر ایس پی) کے 15 اراکین پارلیمنٹ کے خلاف آتش زنی، توڑ پھوڑ اور اشتعال انگیز بیانات دینے کے الزام میں تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔

ایچ آر سی کی پبلک کی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں نیپال کے سابق وزرائے اعظم، وزرا، اراکین پارلیمنٹ اور سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ افسران پر انتہائی سنگین الزامات لگاتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

ویسٹ انڈیز نے نیپال کو شکست دے دی

اس رپورٹ میں سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی اور سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انتظامی طاقت کے غلط استعمال کا الزام لگاتے ہوئے اگلے 5 سال تک ان کے انتخاب لڑنے اور بیرون ملک سفر کرنے پر مکمل پابندی عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ اس دوران سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنے پر اس وقت کے وزیر مواصلات پرتھوی سبا گرونگ کے خلاف بھی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں احتجاج تحریک کی آڑ میں جیل توڑنے کے واقعے کو کمیشن نے ایک سنگین مجرمانہ معاملہ قرار دیتے ہوئے حکمراں جماعت ’راشٹریہ سوتنتر پارٹی‘ (آر ایس پی) کے صدر روی لامیچھانے کو بنیادی طور پر مجرم قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف فوجداری مقدمہ چلانے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 2 اراکین پارلیمنٹ منیش جھا اور ہری ڈھکال پر جیل سے باقی قیدیوں کو بھگانے کے لیے ہجوم کو اکسانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

کمیشن نے ملک میں تشدد کو نہ روکنے کا ذمہ دار نیپال پولیس کے موجودہ سربراہ (آئی جی پی) دان بہادر کارکی اور آرمڈ پولیس فورس کے موجودہ سربراہ (آئی جی پی) نارائن دت پوڈیل کو قرار دیتے ہوئے محکمہ جاتی کارروائی اور اس کے ساتھ ہی انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ اور پولیس کے اس وقت کے سربراہوں کو مستقبل میں کسی بھی سرکاری عہدے کے لیے نااہل قرار دینے کو کہا گیا ہے۔

رپورٹ میں نیپالی فوج کے کردار کو بھی مشکوک مانا گیا ہے اور فوج کو مستقبل میں اپنی آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کرنے کی سخت ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ عبوری حکومت کی وزیر اعظم سوشیلا کارکی اور سابق وزیر داخلہ سودن گرونگ کے کردار کو بھی مشتبہ بتاتے ہوئے تفصیلی تفتیش کے دائرے میں لایا گیا ہے۔

مزید خبریں