کراچی: سینئر صحافی کے خلاف مبینہ جھوٹے مقدمے پر احتجاج، آزادیٔ صحافت پر تشویش

کراچی (روشن پاکستان نیوز) ورکنگ جرنلسٹس فورم (WJF) کے بانی و مرکزی صدر میاں خرم شہزاد نے گلستانِ جوہر تھانے کے ایس ایچ او نوید سومرو کی جانب سے کراچی پریس کلب اور پاکستان ایسوسی ایشن پریس فوٹوگرافرز (پیپ) کے ممبر سینئر صحافی امجد واریہ کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹا، بے بنیاد اور انتقامی نوعیت کا ڈکیتی کا مقدمہ درج کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت پر کھلا حملہ قرار دیا ہے۔ ایک ایسے شخص کی مدعیت میں، جس پر گیسٹ ہاؤس میں غیر اخلاقی سرگرمیوں اور “تتلیوں کے دھندے” میں ملوث ہونے کے الزامات زیرِ گردش ہیں، ایک باوقار اور پیشہ ور صحافی کے خلاف سنگین نوعیت کا مقدمہ قائم کرنا پولیس اختیارات کے ناجائز استعمال، بدنیتی اور صحافی برادری کو دباؤ میں لانے کی واضح مثال ہے۔ ڈبلیو جے ایف کے جنرل سیکرٹری ساجد احمد اور چیف آرگنائزر عامر رضا نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ صحافیوں کو ہراساں کرنا، جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنا اور ان کی آواز دبانے کی کوششیں کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی صحافی کے خلاف کوئی شکایت موجود ہو تو اس کے لیے آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں، نہ کہ پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انتقامی کارروائیاں کی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ پولیس کے بعض افسران کی جانب سے صحافیوں کے ساتھ ناروا سلوک اور اختیارات کے غلط استعمال کے واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے، جس سے آزادیٔ اظہار اور میڈیا کی خودمختاری متاثر ہو رہی ہے۔ ورکنگ جرنلسٹس فورم نے آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی ایسٹ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ مقدمے کا فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ نوٹس لیا جائے، بے بنیاد مقدمہ فوری طور پر خارج کیا جائے اور ایس ایچ او گلستانِ جوہر نوید سومرو کے طرزِ عمل اور کردار کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف سخت محکمانہ و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ڈبلیو جے ایف نے واضح کیا کہ صحافی برادری کے خلاف کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی، ہراسانی یا آزادیٔ صحافت سلب کرنے کی کوشش پر خاموش نہیں رہا جائے گا، بلکہ ہر قانونی، آئینی، جمہوری اور صحافتی فورم پر بھرپور آواز بلند کی جائے گی۔

مزید خبریں