آزاد کشمیر کی سیاسی و انتخابی صورتحال پر ردعمل، مانچسٹر میں احتجاج کا اعلان

مانچسٹر(روشن پاکستان نیوز) آزاد کشمیر میں سیاسی و انتخابی صورتحال پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں مختلف حلقوں نے جمہوری عمل کو متاثر کرنے اور عوامی مینڈیٹ کو سلب کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

مقامی اور اوورسیز کشمیری نمائندوں کے مطابق الیکشن کمیشن کے حالیہ فیصلوں کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں سیاسی جماعتوں کے انتخابی حقوق متاثر ہوئے ہیں اور آزادانہ سیاسی سرگرمیوں پر قدغن لگائی جا رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حالات کو کشمیری عوام قبول نہیں کرتے اور ایسے فیصلوں کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ عوام کے ووٹ کے حق کو محدود کرنے کی کوششیں جمہوری اصولوں کے خلاف ہیں۔

اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر سے متعلق سیاسی صورتحال کا بھی ذکر کیا گیا، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پارٹی کو مختلف پابندیوں اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ساتھ ہی پارٹی قیادت کے خلاف قانونی کارروائیوں اور زیر حراست رہنماؤں کی صورتحال پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

مزید یہ کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے حوالے سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ انہیں مختلف مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور ان کی اہل خانہ، وکلا اور طبی سہولیات تک رسائی محدود ہے، جسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔

ان تمام صورتحال کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں اوورسیز کشمیریوں اور پاکستانیوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

تفصیلات برائے احتجاجی مظاہرہ

  • مقام: 137 Dickenson Road، مانچسٹر
  • تاریخ: 22 مئی (جمعہ)
  • وقت: 4:30 بجے شام
  • ادارہ: قونصلیٹ جنرل آف پاکستان

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس مبینہ “ظلم و جبر” کے خلاف اپنی آواز بلند کریں گے اور سیاسی و جمہوری حقوق کی بحالی کا مطالبہ کریں گے۔

مزید خبریں