پی ایس این اسلام آباد کا ہنگامی اجلاس، سانحہ ڈی جی خان پر گہرے رنج و غم کا اظہار

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پرائیویٹ اسکولز نیٹ ورک(PSN ) کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (CEC) کا ایک اہم اور ہنگامی اجلاس. Allied School میں مرکزی صدر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں سینئر نائب صدر ، جنرل سیکرٹری ، سی ای سی کے اراکین اور اسلام آباد کے تمام زونز کی زونل کابینہ کے عہدیداران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اجلاس میں ڈی جی خان میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے معصوم بچوں کی شہادت پر فاتحہ خوانی کی اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی و اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم بچوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر مقبول حسین ڈار نے کہا کہ یہ سانحہ پوری تعلیمی برادری کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی ادارے ہمیشہ طلبہ کو محفوظ، معیاری اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں، تاہم ایسے حادثات کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ اصل حقائق قوم کے سامنے آ سکیں۔

سینئر نائب صدر چوہدری محمد ارشد نے کہا کہ ایک استاد اپنے شاگردوں کو اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھتا ہے، اس لیے کسی بھی تعلیمی شخصیت کو تحقیقات مکمل ہونے سے قبل مجرم قرار دینا انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحے کو جذبات کے بجائے قانون اور انصاف کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔

جنرل سیکرٹری امتیاز علی خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پیپسا (PEPSA) کے مرکزی صدر محترم شیخ محمد اکرم صاحب ملک بھر کے نجی تعلیمی اداروں کے مسائل کے حل، معیاری تعلیم کے فروغ اور طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے طویل عرصے سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے ساتھ عزت و احترام کا رویہ اختیار کیا جائے اور قانون کے مطابق منصفانہ اور شفاف کارروائی کی جائے۔

اجلاس کے شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ معصوم بچوں کی شہادت پر ہر آنکھ اشکبار ہے اور پوری تعلیمی برادری متاثرہ والدین کے غم میں برابر کی شریک ہے، تاہم اس سانحے کے ذمہ داران کا تعین غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔ اجلاس میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ تعلیمی اداروں میں حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ سانحے کی شفاف تحقیقات کر کے اصل ذمہ داران کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے اور تمام متعلقہ افراد کے ساتھ انسانی وقار اور قانونی تقاضوں کے مطابق رویہ اختیار کیا جائے۔

اجلاس کے اختتام پر شہدائے سانحہ کے درجات کی بلندی، زخمی بچوں کی جلد صحت یابی، ملک بھر کے تعلیمی اداروں کی حفاظت اور پاکستان میں امن و سلامتی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

مزید خبریں