هفته,  18 اپریل 2026ء
برطانیہ: 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی؟ بڑی خبر سامنے آگئی

لندن (روشن پاکستان نیوز) برطانیہ کا سوشل میڈیا لت پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان، الگورتھمز و وقت کی حد سمیت مختلف پابندیوں پر غور، وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے والی خصوصیات پر پابندی لگائیں گے، جبکہ وزیر تعلیم کا کہنا تھا سوشل میڈیا زیادہ دیر تک جڑا رکھتا ہے۔

گارڈین کے مطابق برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ان خصوصیات کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا ہے جو بچوں اور نوجوانوں کو عادی بناتی ہیں، جیسے مسلسل اسکرولنگ اور روزانہ استعمال بڑھانے والے فیچرز۔ انہوں نے کہا کہ ایسی چیزوں کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور حکومت کو مداخلت کرنا پڑے گی۔

برطانیہ اور پاکستان کے درمیان نیا شراکت داری پروگرام

برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کے حوالے سے سخت اقدامات زیر غور ہیں، جس کا مقصد بچوں کو سوشل میڈیا کی لت اور آن لائن خطرات سے بچانا ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا نے اس کی منظوری دے دی ہے، جبکہ حکومت محدود پیمانے پر نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا تجربہ بھی کر رہی ہے۔
اہم تفصیلات:
  • پابندی کا مقصد: 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات، بشمول اے آئی چیٹ بوٹس اور دیگر آن لائن خطرات سے بچانا۔
  • تجرباتی مرحلہ: حکومت سینکڑوں نوجوانوں پر سوشل میڈیا سائٹس کے استعمال پر پابندی کا ایک تجربہ کر رہی ہے۔
  • پارلیمانی حمایت: پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا نے بچوں کو سوشل میڈیا سے دور رکھنے کے حق میں ووٹ دیا ہے، جس سے حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
  • سخت ضوابط: حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کمپنیوں کو خواتین کے خلاف تشدد اور نوجوانوں کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات (ایمرجنسی) اٹھانے کے احکامات دیے گئے ہیں۔
یہ اقدامات برطانیہ میں بچوں کی حفاظت اور ذہنی صحت کو یقینی بنانے کے لیے جاری بحث اور سخت ضوابط کا حصہ ہیں۔

مزید خبریں