اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) علاقائی صورتحال کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات جاری ہیں۔ یہ مذاکرات حالیہ کشیدگی اور دو ہزار چھبیس کی ایران جنگ کے بعد شروع کیے گئے ہیں، جنہیں خطے میں امن کے قیام کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں آٹھ اپریل دو ہزار چھبیس کو دو ہفتوں کی جنگ بندی ممکن بنائی گئی، جس کے بعد یہ مذاکرات شروع ہوئے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف فوری کشیدگی کو کم کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی امید کی ایک نئی لہر پیدا کی ہے۔
والدِ مرحوم کی ساتویں برسی: سحرکامران کا جذباتی پیغام، ایصالِ ثواب کے لیے سورۂ فاتحہ کی اپیل
رکنِ قومی اسمبلی سحر کامران نے اس موقع پر اپنے بیان میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک نے ہمیشہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امن، مکالمے اور سفارت کاری کو فروغ دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسلام آباد میں جاری یہ مذاکرات خطے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔
سحر کامران نے مزید کہا کہ جنگ بندی کا حصول پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے اور امید ظاہر کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بات چیت مثبت نتائج دے گی، جس سے خطے میں پائیدار استحکام آئے گا۔
عالمی برادری کی نظریں اس وقت اسلام آباد پر مرکوز ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوئے تو یہ خطے میں دیرپا امن کی بنیاد ثابت ہو سکتے ہیں۔











