جمعه,  10 اپریل 2026ء
برطانیہ میں 22 ہزار طلبہ بحران کا شکار، قرض واپسی کے احکامات سے تشویش بڑھ گئی

مانچسٹر(تسنیم شہزاد) برطانیہ میں تقریباً 22 ہزار ویک اینڈ طلبہ ایک بڑے مالی اور تعلیمی بحران کا شکار ہو گئے ہیں، جب حکومت نے انہیں دیے گئے مینٹیننس لونز واپس کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب متعدد جامعات نے اپنے کورسز کی غلط درجہ بندی کر دی، جس کے باعث طلبہ کو وہ مالی سہولتیں مل گئیں جن کے وہ اصل میں اہل نہیں تھے۔

محکمہ تعلیم کے مطابق 15 یونیورسٹیوں نے ویک اینڈ پر ہونے والے کورسز کو “اِن-اٹینڈنس” قرار دیا، حالانکہ انہیں “ڈسٹنس لرننگ” کے زمرے میں شامل کیا جانا چاہیے تھا۔ اس غلط درجہ بندی کے نتیجے میں طلبہ کو رہائشی اخراجات اور دیگر ضروریات کے لیے قرض اور گرانٹس فراہم کی گئیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 190 ملین پاؤنڈ تک پہنچ گئی۔

برطانیہ بر منگھم : کنگ اسٹینڈنگ میں ایک اور مسجد نفرت انگیز واقعے کا نشانہ بن گئی

متاثرہ اداروں میں ساؤتھیمپٹن سولنٹ یونیورسٹی اور لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی شامل ہیں، جہاں زیر تعلیم طلبہ کو اب ہزاروں پاؤنڈ واپس کرنے کے نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔

طلبہ کو درپیش مشکلات

اس فیصلے کے بعد متاثرہ طلبہ کو تین مشکل آپشنز دیے گئے ہیں:

  • بغیر مالی مدد کے تعلیم جاری رکھنا
  • اپنا کورس تبدیل کرنا
  • یا تعلیم مکمل طور پر ترک کر دینا

47 سالہ طالبہ کیرولینا اوسچووسکا، جو لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں، نے اس صورتحال کو “ڈراؤنا خواب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں فوری طور پر ہزاروں پاؤنڈ واپس کرنے کا کہا جا رہا ہے، جو ان کے لیے شدید مالی دباؤ کا باعث ہے۔

حکومتی مؤقف

برطانیہ کی وزیر تعلیم بریجٹ فلپسن کا کہنا ہے کہ اس غلطی کے ذمہ دار طلبہ نہیں بلکہ تعلیمی ادارے ہیں، جنہوں نے یا تو غفلت کا مظاہرہ کیا یا نظام کا غلط فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے جامعات کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر متاثرہ طلبہ کی مدد کریں اور ان کے لیے مناسب سہولتیں فراہم کریں۔

ادارہ جاتی ردعمل

اسٹوڈنٹ لونز کمپنی  کے مطابق متاثرہ طلبہ کو ادائیگی کے مختلف طریقے فراہم کیے جائیں گے، جن میں قسطوں میں ادائیگی یا مستقبل کے فنڈز سے کٹوتی شامل ہے۔

دوسری جانب نیشنل یونین آف اسٹوڈنٹس (NUS) نے اس صورتحال کو “تباہ کن” قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ طلبہ کو پہلے سے وعدہ کیے گئے قرضے اور گرانٹس جاری رکھے جائیں تاکہ ان کی تعلیم متاثر نہ ہو۔

آئندہ لائحہ عمل

حکام نے طلبہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ:

  • اپنی یونیورسٹی میں باضابطہ شکایت درج کریں
  • اور اگر مسئلہ حل نہ ہو تو آفس آف دی انڈیپنڈنٹ ایڈجوڈیکیٹر سے رجوع کریں

نتیجہ

یہ معاملہ نہ صرف برطانیہ کے تعلیمی نظام میں موجود انتظامی خامیوں کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس مسئلے کا فوری اور منصفانہ حل نہ نکالا گیا تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

مزید خبریں