اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ مجھے کوئی بدعا دینا چاہتا ہے تو دے، میں ریاست کو نقصان نہیں ہونے دوں گا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیٹرولیم سیکٹر کی ڈی ریگولیشن، سبسڈی اور سیاسی مخالفت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا پیٹرول کی قیمتوں پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ میرے بھائی ہیں اور میں ان کی عزت کرتا ہوں، لیکن ان کے سیکرٹری جنرل نے ٹوئٹر پر ایسا طوفان مچایا جیسے سارے مسائل آج ہی پیدا ہوئے ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم سے مشاورت کے بعد پیٹرول پر لیوی 80 روپے کم کی گئی ہے جبکہ ڈیزل پر لیوی ختم کر دی گئی ہے، خطے میں جاری کشیدگی کی وجہ سے ہر دن نئی صورتحال سامنے آتی ہے جو کسی کے مفاد میں نہیں۔
وفاقی وزیر نے تائید کی کہ پیٹرولیم سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ ہونا چاہیے، اور حکومت اس طرح کام کر رہی ہے کہ اس عمل سے کسی کو تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت غریب طبقے کو تحفظ دے سکتی ہے، لیکن “لینڈ کروزر” والوں کو 10 ہزار روپے کی سبسڈی نہیں دی جا سکتی. ریلیف صرف مستحقین کے لیے ہے۔
پیٹرول سبسڈی: سندھ حکومت نے موٹرسائیکل مالکان کو 2 ہزار روپے دینے کا آغاز کردیا
علی پرویز ملک نے یکجہتی کے طور پر کابینہ ارکان کی 6 ماہ کی تنخواہ قومی خزانے میں جمع کرانے کے فیصلے کو درست قرار دیا، وہ وزیراعظم کے اعتماد تک بطور وزیر پیٹرولیم اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔
انھوں نے مزید کہا مجھے کوئی بدعا دینا چاہتا ہے تو دے، میں ریاست کو نقصان نہیں ہونے دوں گا۔











