اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) رکنِ قومی اسمبلی سحر کامران کی جانب سے سماجی ذرائع ابلاغ پر جاری بیانات میں حالیہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، امریکہ کی پالیسیوں اور ایران سے متعلق بڑھتے ہوئے تنازعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان بیانات میں جنگی طرزِ فکر کو مسترد کرتے ہوئے امن، سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی پر زور دیا گیا ہے۔
سحر کامران نے بانیٔ پاکستان محمد علی جناح کے اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اندرونی اور بیرونی امن کو فروغ دینا چاہیے اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار اور دوستانہ تعلقات قائم رکھنے چاہئیں۔ ان کے مطابق جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ پائیدار امن صرف سنجیدہ اور قابلِ عمل سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور مبینہ اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایران میں مداخلت، اسلحہ کی غیر قانونی ترسیل اور وسائل کے حصول کے لیے جارحانہ پالیسیوں کے الزامات کا ذکر کیا اور ان رویوں کو سامراجی طرزِ عمل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ملک کو اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔
ایران کی معروف درسگاہ شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی پر مبینہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا علم دشمنی کے مترادف ہے اور علم کو طاقت کے زور پر دبایا نہیں جا سکتا۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات نہ صرف انسانی اقدار کے خلاف ہیں بلکہ عالمی سطح پر علمی ترقی کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔
سحر کامران کا ایسٹر کے موقع پر خوشیوں بھرا پیغام
انہوں نے عالمی اداروں جیسے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ اور United Nations Human Rights Council سے مطالبہ کیا کہ وہ ممکنہ جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں اور ذمہ داران کے خلاف مؤثر کارروائی کو یقینی بنائیں۔
بیانات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ طویل جنگیں نہ صرف معیشتوں کو کمزور کرتی ہیں بلکہ پورے خطے میں عدم استحکام اور انتشار کو بڑھاتی ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ موجودہ عالمی حالات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ ایک نہایت حساس خطہ ہے جہاں کسی بھی بڑی طاقت کی مداخلت کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایران، امریکہ اور دیگر علاقائی قوتوں کے درمیان کشیدگی عالمی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن سکتی ہے، جبکہ سماجی ذرائع ابلاغ پر گردش کرنے والے بیانیے اکثر جذباتی ہوتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ رائے قائم کرتے وقت مصدقہ معلومات اور حقائق کو مدنظر رکھا جائے۔
پاکستان کا سرکاری مؤقف عمومی طور پر یہی رہا ہے کہ تمام تنازعات کا حل بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جائے، خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کیا جائے اور امتِ مسلمہ میں اتحاد اور استحکام کو فروغ دیا جائے تاکہ خطہ کسی بڑے انسانی اور معاشی بحران سے محفوظ رہ سکے۔











