اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) آئی ایم ایف نے پاکستان سے بجلی کی سبسڈی میں 206 ارب روپے کی کٹوتی اور گردشی قرضوں کے خاتمے کا مطالبہ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے حکومتِ پاکستان کو توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا نیا ہدف دے دیا۔
آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ بجلی کی سبسڈی کو بتدریج کم کیا جائے اور گردشی قرضوں کے بوجھ کو مستقل بنیادوں پر ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
بھاٹہ گاؤں ڈیجیٹل گاؤں بن گیا: بینکوں کی مشترکہ تقریب میں اے ٹی ایم افتتاح اور فریش کرنسی تقسیم
آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں بجلی کی سبسڈی میں 206 ارب روپے کی کمی کی جائے۔
عالمی ادارے نے شرط رکھی کہ آئندہ بجٹ میں توانائی کے شعبے کو 830 ارب روپے سے زائد کی سبسڈی نہ دی جائے اور توانائی کے شعبے کو دی جانے والی سبسڈی میں ہر سال بتدریج کمی لائی جائے۔
واضح رہے کہ رواں مالی سال کے لیے بجلی کی سبسڈی کا تخمینہ 1036 ارب روپے ہے۔
ذرائع نے کہا کہ آئی ایم ایف نے مالی سال 2031 تک پاور سیکٹر کے گردشی قرضے کو مکمل طور پر ختم کرنے کا ہدف دیا ہے، مالی سال 2026-27 تک بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے کے بہاؤ کو صفر کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ پاور سیکٹر میں اصلاحات کے تحت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کی نجکاری یا انہیں نجی انتظام میں منتقل کرنے کا عمل 2027 کے اوائل تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
حکومت نے آئی ایم ایف کو ان اصلاحات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرا دی ہے، جس کے نتیجے میں اصلاحاتی پیکیج کے تحت بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ کیا جائے گا۔
سبسڈی میں کمی اور نرخوں میں اضافے سے عام صارفین پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھنے کا شدید خدشہ ہے۔











