اسلام آباد(سعد عباسی) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل فرانزک ایجنسی (این ایف اے) کا دورہ کیا جہاں انہیں ادارے کی کارکردگی اور جدید سہولیات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر انہوں نے ایجنسی میں قائم ریسرچ اینڈ انوویشن لیب، ڈیجیٹل فرانزک لیب، نارکوٹکس لیب، فنٹیک لیب اور قابلِ اعتراض دستاویزات (Questionable Documents) لیب کا معائنہ کیا۔ وزیر داخلہ نے ڈی این اے، فائر آرمز، سیرولوجی اور ایکسپلوسیو رومز کا بھی دورہ کیا۔
محسن نقوی نے قلیل مدت میں ادارے کو مکمل طور پر فعال بنانے پر ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ نیشنل فرانزک ایجنسی کا قیام موجودہ دور کی اہم ضرورت تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ قومی سلامتی اور جرائم کی روک تھام میں کلیدی کردار ادا کرے گا اور جدید ترین سہولیات فراہم کرے گا جو دیگر اداروں کے پاس دستیاب نہیں۔
پی ایس ایل11: محسن نقوی کی ملکی و غیر ملکی کھلاڑیوں کے اعزاز میں تقریب
وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی نیشنل فرانزک ایجنسی کے ذیلی دفاتر قائم کیے جائیں تاکہ ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اس سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایجنسی کی خدمات کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا جائے۔
دورے کے دوران وزیر داخلہ نے موک کرائم سین یونٹ کا بھی جائزہ لیا اور زیر تربیت اے ایس پیز سے تربیتی کورس کے حوالے سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تربیت افسران کے پورے کیریئر میں معاون ثابت ہوگی۔
ڈی جی نیشنل فرانزک ایجنسی حسنات رسول نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارے کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے جبکہ دوسرے مرحلے پر جلد کام شروع کیا جائے گا، جس میں مزید 25 خصوصی لیبارٹریز قائم کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیجیٹل فرانزکس کے شعبے میں ڈیپ فیک، کمپیوٹر و موبائل، آڈیو ویڈیو، نیٹ ورک اور ڈرون فرانزکس کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور گزشتہ ایک سال میں 1500 ڈیجیٹل فرانزک کیسز کی رپورٹس تیار کی گئی ہیں۔
اس موقع پر ڈی جی اے این ایف، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی این سی سی آئی اے، آئی جی اسلام آباد پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔











