جمعرات,  26 فروری 2026ء
راولپنڈی میں بااثر قبضہ مافیا کیخلاف اوورسیز پاکستانی ڈاکٹر حنا اعوان کی وزیر اعظم اور اعلیٰ حکام سے اپیل

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) اوورسیز پاکستانی خاتون ڈاکٹر حنا امان نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ انکی راولپنڈی میں واقع کمرشل پراپرٹی جس پر بااثر قبضہ مافیا ء نے زبردستی قبضہ کر لیا ہے واگزار کروائی جائے، چوری ہونے والے اشیاء کو واپس دلوایا جائےاور ملزمان کو گرفتار کرکےانہیں قرار واقعی سزادی جائے، نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر حنا اعوان کا مزید کہنا تھا کہ انکے شوہر نے جون 2021 ءمیں رنگ روڈچوہڑہڑپال راولپنڈی میں واقع ایک پلاٹ قانونی طور پر خریدا اور کار ورکشاپ قائم کی جس پر کاروبار شروع کرنے کے لیے تقریباً لاکھوں روپے خرچ کئے،اس کے ساتھ ساتھ ہم نے نایاب جانوروں، بشمول پرندوں اور کتوں کا قانونی ذخیرہ بھی رکھا ہوا تھاتاہم کاروبار نہ چلنے پر 2023 میں ورکشاپ کا کام بندکرکے تمام متعلقہ مشینری کو احاطے میں محفوظ کرکےدوبارہ بیرون ملک چلے گئے، جبکہ جانوروں کا کاروبارفرنٹ بزنس کے طور پر جاری رہا، اسی دوران میرے بھتیجے کی کمپنی کادفتر بھی اسی احاطے میں قائم کیا گیا، جہاں پر انکاایک ملازم فیض احمد آصف بٹ نگرانی اور سیکیورٹی کے لیے مستقل طور پر احاطے میں مقیم تھا،جنوری 2026 ءکو رات گیارہ بجے کےقریب تقریباً 30 تا 40 مسلح افراد نے اچانک ہمارے احاطے پر حملہ کر دیا۔ جن کے نام بعد ازاں راجہ ثاقب، عرفان الله جان اور شعیب عباسی معلوم ہوئے جو علاقے کے معروف قبضہ مافیاءہیںاور عمران الیاس کے زیر سرپرستی کام کر رہے تھےجو راولپنڈی کی ایک بااثر سیاسی شخصیت کا بھتیجا ہے۔احاطے میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے بعد ان مسلح افراد نے دانش محمود کو جو کتا خریدنے کے لیے وہاں موجود تھا اور میرے ملازم فیض احمد آصف بٹ کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔ دونوں کو شدید چوٹیں آئی حملہ اوروں نے ڈکیتی بھی کی اور دانش محمود کا (MLCs) ثبوت ان کے میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹس سے واضح ہے، اور پچاس ہزار روپے نقد چھین لیے جبکہ فیض احمد سےاس کی موٹر سائیکل نمبری 864-RIK رجسٹریشن نمبر موبائل فون،آصف بٹ کا موبائل فون بھی زبردستی لے لیا، اطلاع ملنے پرہم بغیر تاخیر کے موقع پر پہنچےتو دیکھا کہ پولیس اہلکار پہلے سے باہر موجود تھے تاہم ہمیںتحفظ فراہم کرنے یا حملہ آوروں کو روکنے کے بجائے ہدایت کی گئی کہ ہم پولیس اسٹیشن نصیر آباد راولپنڈی جائیںپولیس اسٹیشن میں معلوم ہوا کہ مذکورہ مسلح افراد ہمارے احاطے اور ملحقہ دکان کی جھوٹی ملکیت کا دعویٰ کر رہے،ہم نے پولیس کے سامنے خصوصاً تمام متعلقہ دستاویزات پیش کیےجو ہماری قانونی ملکیت اور قبضہ واضح طور پر ثابت کرتے تھے تاہم پولیس نے کوئی توجہ نہ دی جس سے یہ بات عیاں ہو گئی کہ پولیس اہلکار مسلح قبضہ مافیاءکے ساتھ ملے ہوئےہیں اور ہمارے خلاف سازش میں شریک ہیں۔پولیس اسٹیشن کے اندر راجہ ثاقب نے کھلے عام مجھے اور میری نند کو دھمکیاں دیں اور سنگین نتائج کی دھمکی دی جبکہ ہمیں ریلیف اور تحفظ فراہم کرنے کے بجائے پولیس نےقبضہ مافیاء کی سہولت کاری کی، انہیں ہمارے احاطے تک رسائی دی، اور ہمیں زبردستی باہر نکال دیا، حتیٰ کہ گیٹ کو باہر سے تالہ لگا دیا اور اب عثمان بلال جو چکڑا کا رہائشی اور قبضہ مافیاء ہے، اس وقت راجہ ثاقب کی ہدایات پر دیگر غنڈوں اور جرائم پیشہ افراد کے ساتھ ہمارے احاطے کے اندر مقیم ہے،چوہدری خالد DSP ، راولپنڈی CPO اس کے بعد سے میں نے ہر ممکن اتھارٹی سے رجوع کیا ہے، جن میں آپریشنز، اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن اور وزیر اعظم شکایات سیل شامل ہیں مگر بد قسمتی سے کسی نے بھی ہماری شکایات پر توجہ نہیں دی اور ہمیں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، ڈاکٹر حنا اعوان نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل کی کہ وہ انہیں انصاف کی فراہمی میں کردار ادا کریں اور انکی کمرشل پراپرٹی واگزار کروائی جائے، چوری ہونے والے اشیاء کو واپس دلوائی جائیںاور ملزمان کو گرفتار کرکےانہیں قرار واقعی سزادی جائے۔

مزید خبریں